Meaning of

درند

darind • दरिंद

جانور; شکاری; جنگلی جانور

beast; predator; wild animal

जानवर; शिकारी; जंगली जानवर

Persian

کون آزاد ہے پرندوں سا
خوف ان کا ک
ہاں درندوں سا

1

Download Image

شوق ہے ا
سے بیان کو
آپ کے ہونٹ کاٹ خانے کا

70

Download Image

دل درندہ ک
سے کی تمنا ہے وہ ہے وہ زندگی ہے وہ ہے وہ نے
حقیقت کون ہے جسے دیکھا نہیں کبھی ہے وہ ہے وہ نے

60

Download Image

لگ ہندو ہوں ہے وہ ہے وہ نہیں مسلمان ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ
درندوں کی دنیا ہے وہ ہے وہ انسان ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ

ادا کر مجھے تو عبادت کے چنو
مری جاں تری دل کا ارمان ہوں ہے وہ ہے وہ

24

Download Image

موت کے درندے ہے وہ ہے وہ اک کشش تو ہے ثروت
لوگ کچھ بھی کہتے ہوں خود کشی کے بارے ہے وہ ہے وہ

16

Download Image

इंसान से ज़ियादा कोई हैवान नहीं है
अब तो इंसानों में ही इंसान नहीं है

रेप किया था कल जिस ने कोई लड़की का
वो दरिंदा है , हिन्दू या मुसलमान नहीं है

10

Download Image

نہیں تو نہیں شیف ا
سے دی
سے ہے وہ ہے وہ رے چڑیا
درندے ہیں انسان کے بھی
سے ہے وہ ہے وہ رے چڑیا

4

Download Image

ہے وہ ہے وہ جو ہوں ایک عجب درندہ ہوں
ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے خواہش کو اپنی کھائی ہے
عشق کی آخری حدوں پر ہوں
آخری حد جو بے وفائی ہے

4

Download Image

ہے وہ ہے وہ تو ب
سے اک سفر کا ہی پرندہ ہوں
سفر کے ختم ہونے تک ہی زندہ ہوں

مجھے جاناں خواب جنت کے دکھاؤ مت
ہے وہ ہے وہ ہے وہ خوف سے نکالا اک درندہ ہوں

3

Download Image

عمر یوں ہی دل درندہ کیا کچھ نہیں
آپ کی یاد آئی کیا کچھ نہیں

1

Download Image

کون آزاد ہے پرندوں سا
خوف ان کا ک
ہاں درندوں سا

1

Download Image

شوق ہے ا
سے بیان کو
آپ کے ہونٹ کاٹ خانے کا

70

Download Image

درند لفظ فطرت کے ابتدائی اور بے قابو پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر ان کچے، غیر مہذب جبلتوں کی علامت ہوتا ہے جو تہذیب کی سطح کے نیچے چھپی ہوتی ہیں۔ شکاری یا جنگلی جانور کی تصویر کا استعمال بقا، طاقت اور بے قابو روح کے موضوعات کی تلاش کے لیے کیا جا سکتا ہے۔

شاعر 'درند' کا استعمال انسانی فطرت کے تاریک پہلوؤں کی کھوج کے لیے کرتے ہیں۔ یہ ایک بے رحم کردار یا بے قابو قوت کی علامت ہو سکتا ہے۔ اکثر نرم مخلوقات کے ساتھ تضاد میں وجود کی دوگانگی کو اجاگر کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

شاعری کی دنیا میں، 'درند' ہمارے اندر کی بے قابو قوتوں کی یاد دہانی کراتا ہے۔ یہ تہذیب کی سطح کو چیلنج کرتا ہے۔