Meaning of

دیواں

deewaan • दीवां

نظموں کا مجموعہ; انتخاب

collection of poems; anthology

कविताओं का संग्रह; संकलन

Persian

یہ بات ابھی سب کو سمجھ آئی نہیں ہے
دیوا
لگ ہے دیوا
لگ تمنا ئی نہیں ہے

دل میرا دکھا کر یہ مجھے تیرا منانا
مرہم ہے فقط زخم کی بھر
پائی نہیں ہے

51

Download Image

حقیقت زما
لگ گزر گیا تو کب کا
تھا جو دیوا
لگ مر گیا تو کب کا

117

Download Image

ذکر ہر سو بکھر گیا تو ا
سے کا
کوئی دیوا
لگ مر گیا تو ا
سے کا

ا
سے نے جی بھر کے مجھ کو چاہا تھا
اور پھروں جی ہی بھر گیا تو ا
سے کا

100

Download Image

کوئی دیوا
لگ کہتا ہے کوئی پاگل سمجھتا ہے
م
گر دھرتی کی بےچینی کو ب
سے بادل سمجھتا ہے

82

Download Image

جب بھی دیوا
لگ کوئی راہ بھٹک جاتا ہے
سب سے پہلے تو میرا آپ پہ شک جاتا ہے

67

Download Image

کوئی دیوا
لگ کہتا ہے کوئی پاگل سمجھتا ہے
م
گر دھرتی کی بےچینی کو ب
سے بادل سمجھتا ہے

66

Download Image

جب سے بولا ا
سے نے ہاں یہ محبت سے
لی پھروں دیوانوں کی رائے محبت سے

آتے دیکھ چھپا کرتی تھی جو لڑکی
ا
سے نے آج پلائی چائے محبت سے

63

Download Image

ہر شعر ہر غزل پہ ہے ایسی چھاپ تیری
تصویر بن رہی ہے اک اپنے آپ تیری

تری لیے کسی کو اتنا دیوا
لگ دیکھا
لگنے لگی ہے مجھ کو چاہت بھی پاپ تیری

61

Download Image

کاغذ ہے وہ ہے وہ دب کے مر گئے کیڑے کتاب کے
دیوا
لگ بے پڑھے لکھے مشہور ہوں گیا تو

56

Download Image

اپنی دیوانگی سے ڈرتا ہوں
دل تو ہوتا ہے دل لگانے کو

54

Download Image

یہ بات ابھی سب کو سمجھ آئی نہیں ہے
دیوا
لگ ہے دیوا
لگ تمنا ئی نہیں ہے

دل میرا دکھا کر یہ مجھے تیرا منانا
مرہم ہے فقط زخم کی بھر
پائی نہیں ہے

51

Download Image

حقیقت زما
لگ گزر گیا تو کب کا
تھا جو دیوا
لگ مر گیا تو کب کا

117

Download Image

اصل میں، 'دیواں' ایک شاعر کی نظموں کے مجموعے کو ظاہر کرتا ہے، جو ان کی ادبی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔ شاعری میں، یہ ایک احتیاط سے مرتب کردہ انتخاب کی تصویر پیش کرتا ہے، جہاں ہر نظم ایک بڑی کہانی یا جذباتی سفر میں حصہ ڈالتی ہے۔

شاعر اکثر 'دیواں' کا استعمال اپنے کام کی گہرائی اور وسعت کو ظاہر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ شاعرانہ کوشش کی زندگی بھر کی علامت ہو سکتا ہے۔ یہ لفظ شاعر اور ان کی نظموں کے درمیان قربت کا بھی اشارہ دے سکتا ہے۔

'دیواں' اپنی اصل میں شاعری کی پائیدار روح کا ثبوت ہے۔ یہ ایک شاعر کے سفر کی روح کو پکڑتا ہے۔