Meaning of

دیوانہ

deewaana • दीवाना

پاگل; دیوانہ; جنونی

mad; insane; passionate

पागल; दीवाना; जुनूनी

Persian

زندگی پر ا
سے سے بڑھ کر طنز کیا ہوگا فراز
ا
سے کا یہ کہنا کہ تو شاعر ہے دیوا
لگ نہیں

41

Download Image

حقیقت زما
لگ گزر گیا تو کب کا
تھا جو دیوا
لگ مر گیا تو کب کا

117

Download Image

ذکر ہر سو بکھر گیا تو ا
سے کا
کوئی دیوا
لگ مر گیا تو ا
سے کا

ا
سے نے جی بھر کے مجھ کو چاہا تھا
اور پھروں جی ہی بھر گیا تو ا
سے کا

100

Download Image

کوئی دیوا
لگ کہتا ہے کوئی پاگل سمجھتا ہے
م
گر دھرتی کی بےچینی کو ب
سے بادل سمجھتا ہے

82

Download Image

جب بھی دیوا
لگ کوئی راہ بھٹک جاتا ہے
سب سے پہلے تو میرا آپ پہ شک جاتا ہے

67

Download Image

کوئی دیوا
لگ کہتا ہے کوئی پاگل سمجھتا ہے
م
گر دھرتی کی بےچینی کو ب
سے بادل سمجھتا ہے

66

Download Image

ہر شعر ہر غزل پہ ہے ایسی چھاپ تیری
تصویر بن رہی ہے اک اپنے آپ تیری

تری لیے کسی کو اتنا دیوا
لگ دیکھا
لگنے لگی ہے مجھ کو چاہت بھی پاپ تیری

61

Download Image

کاغذ ہے وہ ہے وہ دب کے مر گئے کیڑے کتاب کے
دیوا
لگ بے پڑھے لکھے مشہور ہوں گیا تو

56

Download Image

یہ بات ابھی سب کو سمجھ آئی نہیں ہے
دیوا
لگ ہے دیوا
لگ تمنا ئی نہیں ہے

دل میرا دکھا کر یہ مجھے تیرا منانا
مرہم ہے فقط زخم کی بھر
پائی نہیں ہے

51

Download Image

دانشمندوں رستہ بتلا سکتے ہوں
دیوا
لگ ہوں ویرانے تک جانا ہے

جنت والے تھوڑا پہلے اتریںگے
رندوں کو تو مے خانے تک جانا ہے

48

Download Image

زندگی پر ا
سے سے بڑھ کر طنز کیا ہوگا فراز
ا
سے کا یہ کہنا کہ تو شاعر ہے دیوا
لگ نہیں

41

Download Image

حقیقت زما
لگ گزر گیا تو کب کا
تھا جو دیوا
لگ مر گیا تو کب کا

117

Download Image

اصل میں، 'دیوانہ' پاگل پن یا جنون کا احساس دیتا ہے، اکثر کسی ایسے شخص کی وضاحت کے لیے استعمال ہوتا ہے جو حقیقت سے رابطہ کھو چکا ہو۔ شاعری میں، یہ پاگل پن ایک جنونی شدت میں بدل جاتا ہے، ایک ایسا جوش جو عقل کو رد کرتا ہے اور دل کی وحشی خواہشات کو اپناتا ہے۔

شاعر اکثر 'دیوانہ' کا استعمال ایک ایسے عاشق کی تصویر کشی کے لیے کرتے ہیں جو محبت میں اتنا غرق ہوتا ہے کہ دنیا کو پاگل نظر آتا ہے۔ یہ عقل و منطق کے برعکس ہے، دل کی بے قابو روح کا جشن مناتا ہے۔ یہ لفظ محبت کے خوبصورت انتشار کی تصویر بناتا ہے۔

شاعری میں، 'دیوانہ' محبت کی بے حد اور غیر منطقی فطرت کی علامت بن جاتا ہے۔ یہ ہمیں اپنے دلوں کے اندر کے جنون کو اپنانے کی دعوت دیتا ہے۔