Meaning of

فرمان

farmaan • फ़रमान

حکم; فرمان; حکم نامہ

edict; decree; command

आदेश; हुक्म; फ़रमान

Persian

ٹوٹ چکا ہوں اب مجھ کو ہلکان نہ کر
بکھرے ہوئے سے اٹھنے کا فرمان نہ کر

پیڑ جو روپے تھے ہم نے سائے کے لیے
سوکھے درختوں سے پھل کے ارمان نہ کر

0

Download Image

محفل ہے وہ ہے وہ بیٹھے لوگوں کو بھانے لگی
جب حقیقت مری اشعار فرمانے لگی

4

Download Image

فرمان تھا کلمہ معیار
پر نام تیرا لے مرا

2

Download Image

کہا کتنی دفع دل سے اسے تو بھول جا لیکن
یہ نا فرمان مری بات سنتا ہی نہیں کمبخت

2

Download Image

ا
سے نے مانا نہیں خدا کا یہ ایک فرمان
آدم نے سیب توڑنے کی حماقت کی ہے

2

Download Image

اشرف ال
مخلوق آخر کیوں کہی انسان کو ہم
جب ہے فرمان خدا بے شک گٹھلیاں ہے وہ ہے وہ ہے انساں

1

Download Image

فرماں برداری کا عالم تو دیکھیے
یہ دل آج بھی ان کے لیے دھڑکتا ہے

1

Download Image

تو نے چاہا ہے تو بھلا دوں گا تجھ کو
مجھ سے تیری نافرمانی نہیں ہوں گی

0

Download Image

یہ عیب ہے یا ہے صفت یہ موت کا فرمان ہے
جاناں عشق کہتے ہوں جسے انجان سا طوفان ہے

0

Download Image

ٹوٹ چکا ہوں اب مجھ کو ہلکان نہ کر
بکھرے ہوئے سے اٹھنے کا فرمان نہ کر

پیڑ جو روپے تھے ہم نے سائے کے لیے
سوکھے درختوں سے پھل کے ارمان نہ کر

0

Download Image

محفل ہے وہ ہے وہ بیٹھے لوگوں کو بھانے لگی
جب حقیقت مری اشعار فرمانے لگی

4

Download Image

اصل میں کسی حاکم یا اتھارٹی کی طرف سے جاری کردہ رسمی حکم، 'فرمان' لفظ طاقت اور قطعیت کا بوجھ اٹھاتا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر قسمت یا تقدیر کی اٹل نوعیت کی علامت ہوتا ہے، جیسے کہ زندگی خود احکام جاری کرتی ہے جنہیں ماننا ہوتا ہے۔

شاعر 'فرمان' کا استعمال زندگی کے احکام کی ناگزیریت کو ظاہر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ محبت کے سخت احکام یا معاشرتی قوانین کی علامت ہو سکتا ہے۔ اکثر ذاتی خواہشات کے ساتھ تضاد میں، ذاتی ارادے اور خارجی احکام کے درمیان کشیدگی کو نمایاں کرتا ہے۔

شاعری کی دنیا میں، 'فرمان' قسمت کی طاقت کا ثبوت ہے، زندگی کی طرف سے مقرر کردہ حدود کی یاد دہانی کراتا ہے۔