Meaning of

گردش

gardish • गर्दिश

گردش; چکر; بھٹکاؤ

revolution; cycle; wandering

परिक्रमा; चक्र; भटकाव

Persian

وقت پہ کام اب کوئی آتا نہیں
ساتھ گردش میں اپنا نبھاتا نہیں

ہاتھ یوں تو ملاتے ہے 9 یہاں
دل سے دل آج کوئی ملاتا نہیں

10

Download Image

اور کیا چاہتی ہے گردش ایام کہ ہم
اپنا گھر بھول گئے ان کی گلی بھول گئے

125

Download Image

گردشیں گردشیں سے قدم رک کے بار بار چلے
قرار دے کے تری در سے بے قرار چلے

36

Download Image

گردش ماہ و سال سے آگے نکل گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ
چنو بدل گئے ہوں جاناں چنو بدل گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ

29

Download Image

ہم تو سنتے تھے کہ مل جاتے ہیں بچھڑے ہوئے لوگ
تو جو بچھڑا ہے تو کیا سمے نے گردش نہیں کی

23

Download Image

سمے کی تھی کمی گردشوں کے تھے دن
سمے دینا پڑا ہر کسی کے لیے

18

Download Image

سمے کی گردشوں کا غم لگ کروں
حوصلے مشکلوں ہے وہ ہے وہ پالتے ہیں

17

Download Image

یہ سوچ کر کہ تیری جبیں پر لگ بل پڑے
ب
سے دور ہی سے دیکھ لیا اور چل پڑے

دل ہے وہ ہے وہ پھروں اک کسک سی اٹھی مدتوں کے بعد
اک عمر کے گردشیں ہوئے آنسو نکل پڑے

15

Download Image

ہر مصیبت کا دیا ایک تبسم سے جواب
ا
سے طرح گردش دوراں کو رولایا ہے وہ ہے وہ نے

14

Download Image

چاند سے ہی بے وفائی کا چلن آیا ہے
روشنی سورج سے اور پھروں طواف دھرتی کی

13

Download Image

وقت پہ کام اب کوئی آتا نہیں
ساتھ گردش میں اپنا نبھاتا نہیں

ہاتھ یوں تو ملاتے ہے 9 یہاں
دل سے دل آج کوئی ملاتا نہیں

10

Download Image

اور کیا چاہتی ہے گردش ایام کہ ہم
اپنا گھر بھول گئے ان کی گلی بھول گئے

125

Download Image

اصل میں، 'گردش' کا مطلب ہے چکر لگانا یا دائرے میں حرکت کرنا۔ شاعری میں، یہ زندگی کی چکرواتی فطرت، ناگزیر اتار چڑھاؤ، اور وقت و مقام کے ذریعے روح کی بھٹک کو ظاہر کرتا ہے۔

شاعر 'گردش' کا استعمال قسمت اور تقدیر کی عارضی نوعیت کو بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ اکثر استحکام کے برعکس ہوتا ہے، زندگی کے سفر کی غیر یقینی کو اجاگر کرتا ہے۔

گردش زندگی کی ناپائیداری کا جوہر پکڑتا ہے، وقت کے ہمیشہ گھومتے پہیے کی یاد دلاتا ہے۔