Meaning of

غار

ghaar • ग़ार

غار; کھوہ

cave; grotto

गुफा; कंदरा

Arabic

آئی ہوا لگ را
سے جو سائے کے شہر کی
ہم ذات کی اچھی اچھی غاروں ہے وہ ہے وہ کھو گئے

0

Download Image

میرا کردار مری بات ک
ہاں سنتا ہے
یہ سمجھدار مری بات ک
ہاں سنتا ہے
عشق ہے وعدہ فراموش نہیں ہے کوئی
دل طلبگار مری بات ک
ہاں سنتا ہے

46

Download Image

کہاوت بتاوت یہ شامت حقارت
بغاوت ناتے ذلالت یہ غارت

خوشگوار جنایت جراحت شرارت
انہی سب ہے وہ ہے وہ ہیں عشق رکھتا مہارت

4

Download Image

بہتر حور اور یہ حقیقت ملائی دکھ رہی ہے
غضب ہے قتل و غارت ہے وہ ہے وہ خدائی دکھ رہی ہے

1

Download Image

غارت ہوئے ہیں پیار ہے وہ ہے وہ جتنے ہم
اتنا کوئی دوجا نہیں ہوگا اب

1

Download Image

حضرت اے ناصح کہتے ہیں محبت مار دےگی
عشق کہتا ہے محبت کو تجارت مار دےگی

اور گلچیں تو کرےگا بارہا یوں غارت اے گل
ان گلوں کو یار گلچیں کی رفاقت مار دےگی

0

Download Image

قتل کرنے کے لیے آتی ہے دھمکی لیکن
دشمنوں پر کبھی یلغار نہیں کرتا ہوں

0

Download Image

آئی ہوا لگ را
سے جو سائے کے شہر کی
ہم ذات کی اچھی اچھی غاروں ہے وہ ہے وہ کھو گئے

0

Download Image

میرا کردار مری بات ک
ہاں سنتا ہے
یہ سمجھدار مری بات ک
ہاں سنتا ہے
عشق ہے وعدہ فراموش نہیں ہے کوئی
دل طلبگار مری بات ک
ہاں سنتا ہے

46

Download Image

غار کا لفظ ایک چھپی ہوئی، پراسرار جگہ کی تصویر پیش کرتا ہے۔ اپنے اصل معنی میں، یہ زمین میں ایک قدرتی کھوکھلے کو ظاہر کرتا ہے، ایک پناہ گاہ یا محفوظ مقام۔ شاعری نے اس تصور کو انسانی روح کی نامعلوم گہرائیوں کی علامت بنا دیا ہے، خیالات اور جذبات کے لیے ایک پناہ گاہ۔

شاعر اکثر 'غار' کا استعمال خود شناسی اور تنہائی کے موضوعات کی تلاش کے لیے کرتے ہیں۔ یہ دنیا سے ایک پسپائی کی نمائندگی کر سکتا ہے، ایک جگہ جہاں انسان اندرونی سچائیوں کا سامنا کرتا ہے۔ بیرونی دنیا اور اندرونی 'غار' کے درمیان تضاد ایک عام موضوع ہے۔

شاعری میں، 'غار' روح کے چھپے ہوئے کمروں کا استعارہ بن جاتا ہے۔ یہ اندرونی رازوں پر غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔