Meaning of

رقصاں

gham-e-jaan • ग़म-ए-जाँ

زندگی کا غم; وجودی غم

sorrow of life; existential grief

जीवन का दुःख; अस्तित्व का शोक

Persian

ہے وہی کشتی پرانی ہے وہی دریا میرا
جس پہ تو آنے نہ پایا ہے وہی رستہ میرا

میں مری مصروفیت سے تنگ آ جاتا ہوں دوست
مجھ کو سینے سے لگا کے وقت کر ضائع میرا

اپنی وحشت کا تقاضا ڈھونڈتا ہوں در بدر
لے گیا ہے کوہکن جس روز سے تیشہ میرا

یاد کر कूचा-नवर्दी,یاد کر الفت کے دن
یاد کر باتیں میری اور یاد کر چہرہ میرا

جب ہوائیں تھک گئیں تھیں کوششیں کر دشت میں
ریت تب رقصاں ہوئی تھی چوم کر سایہ میرا

بارشوں کو موسموں کا کھیل سب کہتے ہیں پر
رو پڑے تھے موتی جان کر قصہ میرا

آنکھ وہ ہنستی رہی تو کھیل اٹھے سوکھے گلاب
آنکھ وہ رونے لگی تو رو پڑا صحرا میرا

خسروان شہر میں ہو جاؤں گا اک لمس سے
اور فقط اک دید سے بھر جائےگا کاسا میرا

میں کتابوں کے جہاں کا ایک خوش قسمت کتاب
ناو بچوں نے بنایا پھاڑ کر صفحہ میرا

اس نظر کو خواہشوں کا شوق دے میرا خیال
اس جبیں کو روشنی دیتا رہے بوسہ میرا

میں مسلسل بند کرتا ہوں مگر پھروں دم ب دم
یاد اس کی کھولتی جاتی ہے دروازہ میرا

0

Download Image

اک یہ بھی تو انداز علاج غم جاں ہے
اے چارگرو درد بڑھا کیوں نہیں دیتے

39

Download Image

آنکھیں غزال ہرنی ہیں زلف گھٹا ساون
پہاڑ پہ رقصاں کوئی بادل لگتی ہوں

11

Download Image

شریک زندگی اچھی رہے ارمان ہی ہوتا
غم جاناں سوا جینا ک
ہاں آسان ہی ہوتا

1

Download Image

ہے وہی کشتی پرانی ہے وہی دریا میرا
جس پہ تو آنے نہ پایا ہے وہی رستہ میرا

میں مری مصروفیت سے تنگ آ جاتا ہوں دوست
مجھ کو سینے سے لگا کے وقت کر ضائع میرا

اپنی وحشت کا تقاضا ڈھونڈتا ہوں در بدر
لے گیا ہے کوہکن جس روز سے تیشہ میرا

یاد کر कूचा-नवर्दी,یاد کر الفت کے دن
یاد کر باتیں میری اور یاد کر چہرہ میرا

جب ہوائیں تھک گئیں تھیں کوششیں کر دشت میں
ریت تب رقصاں ہوئی تھی چوم کر سایہ میرا

بارشوں کو موسموں کا کھیل سب کہتے ہیں پر
رو پڑے تھے موتی جان کر قصہ میرا

آنکھ وہ ہنستی رہی تو کھیل اٹھے سوکھے گلاب
آنکھ وہ رونے لگی تو رو پڑا صحرا میرا

خسروان شہر میں ہو جاؤں گا اک لمس سے
اور فقط اک دید سے بھر جائےگا کاسا میرا

میں کتابوں کے جہاں کا ایک خوش قسمت کتاب
ناو بچوں نے بنایا پھاڑ کر صفحہ میرا

اس نظر کو خواہشوں کا شوق دے میرا خیال
اس جبیں کو روشنی دیتا رہے بوسہ میرا

میں مسلسل بند کرتا ہوں مگر پھروں دم ب دم
یاد اس کی کھولتی جاتی ہے دروازہ میرا

0

Download Image

اک یہ بھی تو انداز علاج غم جاں ہے
اے چارگرو درد بڑھا کیوں نہیں دیتے

39

Download Image

یہ فقرہ ایک گہری، ذاتی اداسی کو ظاہر کرتا ہے جو عام غم سے ماورا ہے۔ یہ وجود کے بوجھ، ہونے کے وزن اور زندگی کے ساتھ آنے والی ناگزیر جدوجہد کی بات کرتا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر انسانی حالت کی علامت ہوتا ہے، جس میں نقصان، تمنا اور معنی کی تلاش کے موضوعات شامل ہوتے ہیں۔

شاعر اکثر 'غم-ے-جان' کا استعمال انسانی جذبات کی گہرائیوں کو دریافت کرنے کے لئے کرتے ہیں۔ یہ ذاتی نقصان پر ایک غور و فکر یا تکلیف کی فطرت پر ایک وسیع تر مراقبہ ہو سکتا ہے۔ یہ فقرہ خوشی یا امید کے لمحات کے ساتھ تضاد پیدا کر سکتا ہے، جو انسانی تجربے کی دوگانگی کو اجاگر کرتا ہے۔

'غم-ے-جان' اپنی شاعرانہ جوہر میں اس گہری اداسی کو پکڑتا ہے جو انسانی روح کو متعین کرتی ہے۔ یہ ہمارے وجود میں جڑے ہوئے حسن اور درد کی یاد دلاتا ہے۔