Meaning of

غول

ghool • ग़ूल

بھوت; پریت; مایا

phantom; specter; illusion

भूत; प्रेत; माया

Arabic

قصے بچپن کے اب کون سنائے گا
بچے تو مشغول ہیں اب موبائل ہے وہ ہے وہ

0

Download Image

ہے وہ ہے وہ اسی مٹی سے دل گیر تھا بگولے کی طرح
اور پھروں اک دن اسی مٹی ہے وہ ہے وہ مٹی مل گئی

42

Download Image

مشغول ہوں گئے تھے یوں دنیا کی شام ہے وہ ہے وہ ہے وہ
جاناں کو بھلانے کی ذرا فرصت نہیں ملی

5

Download Image

غموں کو مری جو گنا جا رہا ہیں
کہ مشغول ہو کے سنا جا رہا ہیں

مری ہیں یہ قسمت یا پھروں سجا ہیں
کہ قاتل مجھہی سے چنا جا رہا ہیں

4

Download Image

جاناں مشغول انشا کرتے ہوں آدھی رات کو یاد
تمہارے انتظار ہے وہ ہے وہ آخر کب تک جاگے کوئی

3

Download Image

محبت کی زمیں پہ پھول رکھ کر
چلا ہے وہ ہے وہ زندگی کی دھول رکھ کر

لگا ہے بے وفائی کرنے حقیقت اب
مجھے ا
سے عشق ہے وہ ہے وہ مشغول رکھ کر

2

Download Image

مجھ کو گرانے ہے وہ ہے وہ یوں مشغول مری اپنے
مجھ کو گراتے خود اپنے آپ گر گئے ہیں

1

Download Image

درد محبت کانٹے پھول
تیری دی ہر چیز قبول

تجھ کو اک دن کھونا ہے
چبھتا رہتا ہے یہ شول

تیری یاد کے سائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ
رہتا ہوں ہر پل مشغول

کاش تمہیں ہے وہ ہے وہ پا سکتا
کاش دعا ہوتی یہ قبول

چا
ہوں ا
سے دنیا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ
پیار ہمارا ہوں اڑاؤ

تجھ ہے وہ ہے وہ ب
سے کھونا چا
ہوں
دنیا داری سب کچھ بھول

1

Download Image

اہل مشغول ہیں یا مجبور
اچھا لکھا گرائی رہے ہیں مسرو

1

Download Image

کیا ہوا جو ہوں گئی غلطی ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ اڑاؤ جانا
جاناں سمجھ لینا غلط فہمی تھی اور پھروں بھول جانا

بھولنے سے پہلے ہوں جائیں ا
گر ہم رو برو تو
جان کر انجان بننا اور پھروں مشغول جانا

1

Download Image

قصے بچپن کے اب کون سنائے گا
بچے تو مشغول ہیں اب موبائل ہے وہ ہے وہ

0

Download Image

ہے وہ ہے وہ اسی مٹی سے دل گیر تھا بگولے کی طرح
اور پھروں اک دن اسی مٹی ہے وہ ہے وہ مٹی مل گئی

42

Download Image

اپنے اصل معنی میں، 'غول' ایک بھوتیا شکل کی پراسرار موجودگی کو ظاہر کرتا ہے، ایک پریت جو ادراک کے کناروں پر منڈلاتا ہے۔ شاعری میں، اس لفظ کو ان غیر محسوس خوفوں اور مایا کا علامت بنایا گیا ہے جو انسانی ذہن میں بسا رہتا ہے، ذہن کے منظرنامے پر سایہ ڈالتا ہے۔

شعراء اکثر 'غول' کا استعمال ماضی کے صدمات یا نامکمل خواہشات کی بھوتیا موجودگی کو ظاہر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ خوابوں اور امنگوں کی غیر محسوس نوعیت کا بھی علامت ہو سکتا ہے، جو ہمیشہ پہنچ سے باہر رہتے ہیں۔

'غول' شاعری کی دنیا میں ہمارے گہرے خوفوں اور خواہشات کے ساتھ چلنے والے سائے کی یاد دلاتا ہے۔