Meaning of

گزری

guzri • गुज़री

گزرا ہوا; ماضی; بیتا ہوا

passed; bygone; elapsed

बीता हुआ; गुज़रा हुआ; अतीत

Persian

میر کے بعد تاکتے و حفیظ
اک صدا اک ص
گرا ہے وہ ہے وہ گزری ہے

24

Download Image

عمر گزری ہے مانجھتے خود کو
صاف ہیں پر چمک نہیں پائے

ڈال نے پھول کی طرح پالا
بچھاؤ تھے نا مہک نہیں پائے

49

Download Image

عمر گزری ا
سے کا چہرہ دیکھتے
اور جی لیتے تو دنیا دیکھتے

35

Download Image

آج کی رات بھی گزری ہے مری کل کی طرح
ہاتھ آئی لگ ستارے تم تری آنچل کی طرح

31

Download Image

اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے
عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے

30

Download Image

کبھی کبھی تو یہ وحشت بھی ہم پہ گزری ہے
کہ دل کے ساتھ ہی دیکھا ہے ڈوبنا شب کا

30

Download Image

حقیقت بات سارے فسانے ہے وہ ہے وہ ج
سے کا ذکر لگ تھا
حقیقت بات ان کو بے حد ناگوار گزری ہے

28

Download Image

زندگی اپنی جب ا
سے شکل سے گزری تاکتے
ہم بھی کیا یاد کریںگے کہ خدا رکھتے تھے

28

Download Image

لگ گل کھلے ہیں لگ ان سے ملے لگ مے پی ہے
عجیب رنگ ہے وہ ہے وہ اب کے بہار گزری ہے

28

Download Image

مری زندگی تو گزری تری ہجر کے سہارے
مری موت کو بھی پیاری کوئی چاہیے بہانا

25

Download Image

میر کے بعد تاکتے و حفیظ
اک صدا اک ص
گرا ہے وہ ہے وہ گزری ہے

24

Download Image

عمر گزری ہے مانجھتے خود کو
صاف ہیں پر چمک نہیں پائے

ڈال نے پھول کی طرح پالا
بچھاؤ تھے نا مہک نہیں پائے

49

Download Image

’گزری‘ لفظ وقت کے گزرنے کا احساس دلاتا ہے، ان لمحوں کی یاد دلاتا ہے جو ماضی میں کھو گئے ہیں۔ شاعری میں یہ اکثر ایک اداس لہجے میں ہوتا ہے، یادوں اور زندگی کے ناگزیر بہاؤ پر غور کرتا ہے۔

شاعر ’گزری‘ کا استعمال نوستالجیا اور یادوں کی کھٹی میٹھی نوعیت کو ظاہر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ اکثر کھوئے ہوئے محبت یا خوشی کی عارضی نوعیت پر غور کرتے ہوئے اشعار میں ظاہر ہوتا ہے۔

’گزری‘ کی خاموش عکاسی میں، وقت کے گزرنے کا نرم آغوش ملتا ہے۔