Meaning of

ہول

haul • हौल

خوف; ڈر

fear; dread

डर; भय

Arabic

آدمی ہوتا ہے ماحول سے اچھا یا برا
جانور گھر ہے وہ ہے وہ رکھے جائیں تو انسان سے ہیں

41

Download Image

چپ رہتے ہیں چپ رہنے دو راز بتاؤ کھولے کیا
بات وفا کی جاناں کرتی ہوں بولو ہم کچھ بولے کیا

الفت تو افسا
لگ ہے جاناں کرتی خوب سیاست ہوں
ہم بھی ہیں اڑاؤ بے حد اب بول کسی کے ہولیں کیا

77

Download Image

موت نے ساری رات ہماری نبض ٹٹولی
ایسا مرنے کا ماحول بنایا ہم نے

گھر سے نکلے چوک گئے پھروں پارک ہے وہ ہے وہ بیٹھے
تنہائی کو جگہ جگہ بکھرایا ہم نے

59

Download Image

چارا
گر اے چارا
گر چلاتی تھی
زخموں کو بھی ہاتھ نہیں لگواتی تھی

پتا نہیں کیسا ماحول تھا ا
سے کے گھر
برقعہ پہن کے شرٹیں لینے آتی تھی

48

Download Image

چلے بھی آؤ بھلا کر سبھی گلے شکوے
برسنا چاہیے ہولی کے دن وصال کا رنگ

47

Download Image

یہ مےکشوں کا توازن بھی کیا توازن ہے
کھڑے بھی رہنا سہولت سے لڑکھڑانا بھی

ہمارے شہر کے لوگوں کو خوب آتا ہے
کسی کو سر پہ بٹھانا بھی اور گرانا بھی

44

Download Image

تیری شرطوں پہ ہی کرنا ہے ا
گر تجھ کو قبول
یہ سہولت تو مجھے سارا ج
ہاں دیتا ہے

43

Download Image

ہے وہ ہے وہ زندگی کے سبھی غم بھلائے بیٹھا ہوں
تمہارے عشق سے کتنی مجھے سہولت ہے

42

Download Image

کہی پڑے لگ محبت کی مار ہولی ہے وہ ہے وہ ہے وہ
ادا سے پریم کروں دل سے پیار ہولی ہے وہ ہے وہ

41

Download Image

جو لگ کھیلی ہولی امرت کے ساتھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ
ہاتھوں ہے وہ ہے وہ دیوالی تک گلال رہے گا

41

Download Image

آدمی ہوتا ہے ماحول سے اچھا یا برا
جانور گھر ہے وہ ہے وہ رکھے جائیں تو انسان سے ہیں

41

Download Image

چپ رہتے ہیں چپ رہنے دو راز بتاؤ کھولے کیا
بات وفا کی جاناں کرتی ہوں بولو ہم کچھ بولے کیا

الفت تو افسا
لگ ہے جاناں کرتی خوب سیاست ہوں
ہم بھی ہیں اڑاؤ بے حد اب بول کسی کے ہولیں کیا

77

Download Image

ہول لفظ ایک گہرے خوف کا احساس دلاتا ہے، جو صرف ایک لمحاتی خوف نہیں بلکہ روح پر چھایا ہوا ایک دیرپا خوف ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر ایک زبردست جذبات کا جوہر پکڑتا ہے، جو دل کو جکڑ لیتا ہے اور ایک ناقابل فراموش نشان چھوڑتا ہے۔

شاعر 'ہول' کا استعمال اس خوف کی شدت کو بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں جو عام سے ماورا ہے۔ اسے اکثر خاموشی کے لمحات کے ساتھ رکھا جاتا ہے، جس سے ایک شدید تضاد پیدا ہوتا ہے۔ یہ لفظ نامعلوم، سایوں میں چھپی ہوئی غیر مرئی قوتوں کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔

شاعری کی دنیا میں، 'ہول' انسانی خوف کی گہرائیوں کی کھوج کے لیے ایک وسیلہ بن جاتا ہے۔ یہ ہر روشنی کے ساتھ آنے والے سائے کی یاد دلاتا ہے۔