Meaning of

دیکھوں

hiraasat • हिरासत

حراست; قید

custody; detention

हिरासत; बंदी

Arabic

ستاروں کو بھی اک دن آزماکر دیکھوں گا
مری منزل ا
گر ٹھوکر ہے کھا کر دیکھوں گا

27

Download Image

سوچوں تو ساری عمر محبت ہے وہ ہے وہ کٹ گئی
دیکھوں تو ایک بے وجہ بھی میرا نہیں ہوا

553

Download Image

نہیں دیکھی ہے شکل تک ا
سے کی
خواب ہے وہ ہے وہ کس کی شکل دیکھوں ہے وہ ہے وہ

68

Download Image

آنکھیں دیکھوں تو نظر چہرے سے ہٹ جاتی ہے
ایسی عورت ہے مکمل نہیں دیکھی جاتی

55

Download Image

ہے وہ ہے وہ کیسے مان لوں کہ عشق ب
سے اک بار ہوتا ہے
تجھے جتنی دفع دیکھوں مجھے ہر بار ہوتا ہے

تجھے پانے کی حسرت اور ڈر ناکامیابی کا
انہی دو تین باتوں سے یہ دل دو چار ہوتا ہے

49

Download Image

شام بھی ہوں گئی دھندلا گئی آنکھیں بھی مری
بھولنے والے ہے وہ ہے وہ کب تک ترا رستہ دیکھوں

34

Download Image

اپنی رسوائی تری نام کا چرچا دیکھوں
اک ذرا شعر ک
ہوں اور ہے وہ ہے وہ کیا کیا دیکھوں

32

Download Image

ٹھیک تھی ان سے ملاقات م
گر ٹھیک ہی تھی
فلم اتنی نہیں اچھی کہ دوبارہ دیکھوں

29

Download Image

ہزاروں قمقموں سے جگمگاتا ہے یہ گھر لیکن
جو من ہے وہ ہے وہ جھانک کے دیکھوں تو اب بھی روشنی کم ہے

29

Download Image

تیرا لکھا جو پڑھوں تو تیری آواز سنوں
تیری آواز سنوں تو تیرا چہرہ دیکھوں

28

Download Image

ستاروں کو بھی اک دن آزماکر دیکھوں گا
مری منزل ا
گر ٹھوکر ہے کھا کر دیکھوں گا

27

Download Image

سوچوں تو ساری عمر محبت ہے وہ ہے وہ کٹ گئی
دیکھوں تو ایک بے وجہ بھی میرا نہیں ہوا

553

Download Image

حراست کا لفظ قید کی کیفیت کو بیدار کرتا ہے، جہاں آزادی محدود ہوتی ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر جذباتی یا روحانی قید کی علامت ہوتا ہے، جہاں روح خود کو غیر مرئی زنجیروں سے جکڑا ہوا محسوس کرتی ہے۔

شاعر 'حراست' کا استعمال خواہشات اور پابندیوں کے موضوعات کی تلاش کے لیے کرتے ہیں۔ یہ نامکمل خواہشات کے ذریعے دل کی قید یا سماجی اصولوں میں پھنسے ذہن کی عکاسی کر سکتا ہے۔

شاعری کی دنیا میں، 'حراست' انسانی روح کو باندھنے والی غیر مرئی زنجیروں کی علامت بن جاتی ہے۔