Meaning of

ابتدا

ibtida • इब्तिदा

ابتداء; آغاز; شروع

beginning; inception; start

आरंभ; शुरुआत; प्रारंभ

Arabic

زخم ہے درد ہے دوا بھی ہے
چنو جنگل ہے راستہ بھی ہے

یوں تو وعدے ہزار کرتا ہے
اور حقیقت شخص بھولتا بھی ہے

ہم کو ہر سو نظر بھی رکھنی ہے
اور تری پا
سے بیٹھنا بھی ہے

یوں بھی آتا نہیں مجھے رونا
اور ماتم کی ابتدا بھی ہے

چومنے ہیں پسند کے بادل
شام ہوتے ہی لوٹنا بھی ہے

9

Download Image

حسن ایسا ہے کہ دیکھو تو لگے تاج محل
ا
سے پہ حقیقت بے وجہ ابتدائی بھی غزل جیسا ہے

33

Download Image

خاموشی سے ہوئی فغاں سے ہوئی
ابتدا رنج کی کہاں سے ہوئی

32

Download Image

ہے وہ ہے وہ بچپن ہے وہ ہے وہ کھلونے توڑتا تھا
مری انجام کی حقیقت ابتدا تھی

29

Download Image

ابتدا حقیقت تھی کہ جینا تھا محبت ہے وہ ہے وہ محال
انتہا یہ ہے کہ اب مرنا بھی مشکل ہوں گیا تو

24

Download Image

لگ ابتدا کی خبر ہے لگ انتہا معلوم
رہا یہ وہم کہ ہم ہیں سو حقیقت بھی کیا معلوم

22

Download Image

آگ تھے یعنی ہے وہ ہے وہ ہم
اب جو ہیں خاک انتہا ہے یہ

20

Download Image

ابھی سے پاؤں کے چھالے لگ دیکھو
ابھی یاروں سفر کی ابتدا ہے

17

Download Image

پلک پہ ٹھہری ہوئی شب پگھل کے بہ جائے
کسی ادا
سے فسانے کی ابتدا کیجے

16

Download Image

جسے انجام جاناں سمجھتی ہوں
ابتدا ہے کسی کہانی کی

11

Download Image

زخم ہے درد ہے دوا بھی ہے
چنو جنگل ہے راستہ بھی ہے

یوں تو وعدے ہزار کرتا ہے
اور حقیقت شخص بھولتا بھی ہے

ہم کو ہر سو نظر بھی رکھنی ہے
اور تری پا
سے بیٹھنا بھی ہے

یوں بھی آتا نہیں مجھے رونا
اور ماتم کی ابتدا بھی ہے

چومنے ہیں پسند کے بادل
شام ہوتے ہی لوٹنا بھی ہے

9

Download Image

حسن ایسا ہے کہ دیکھو تو لگے تاج محل
ا
سے پہ حقیقت بے وجہ ابتدائی بھی غزل جیسا ہے

33

Download Image

ابتداء نئی شروعات اور ابھی تک ظاہر ہونے والے وعدے کا جوہر پکڑتی ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر نئی جذبات کے طلوع، خیالات کی پیدائش، یا سفر کے آغاز کی علامت ہوتی ہے۔

شاعر 'ابتداء' کا استعمال ایک نئے باب کی تازگی، ایک نئے منصوبے کے ساتھ آنے والی امید، یا پہلی محبت کی معصومیت کو بیدار کرنے کے لیے کرتے ہیں۔

شاعری میں، 'ابتداء' ہر آغاز میں موجود خوبصورتی اور امکانات کی ایک نرم یاد دہانی ہے۔