Meaning of

التجا

iltija • इलतिजा

التجا; دعا; درخواست

plea; supplication; request

विनती; प्रार्थना; अनुरोध

Arabic

اقرار کر کے ہر دفع انکار کرتا ہے
ہے التجا مری کہ ہنر یہ سکھا مجھے

1

Download Image

کہی حقیقت آ کے مٹا دیں لگ انتظار کا لطف
کہی قبول لگ ہوں جائے التجا مری

40

Download Image

ہے وہ ہے وہ حقیقت بے وجہ ہوں جو خود سے خفا ہوں لیکن
ہے اتنی التجا جاناں کبھی ناراض مت ہونا

15

Download Image

ا
سے سے الفت کی التجا کرنا
زبان پتھر کو پوجتے جانا

10

Download Image

جان من ہے وہ ہے وہ آئینوں ہے وہ ہے وہ بھی تمہارا روپ
دیکھتا جو ہوں کبھی تو التجا کے ساتھ

5

Download Image

یہ حقیقت ہے مضحکہ نہیں ہے
حقیقت بے حد دور ہے جدا نہیں ہے

تری ہونٹوں پہ رقص کرتا ہے
راز جو اب تلک کھلا نہیں ہے

جان اے جاں تری حسن کے آگے
یہ جو شیشہ ہے آئی
لگ نہیں ہے

کیوں شرابور ہوں پسینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بوسہ ابھی لیا نہیں ہے

ا
سے کا پندار بھی وہیں کا وہیں
مری لب پر بھی التجا نہیں ہے

جو بھی ہونا تھا ہوں چکا کاظم
اب کسی سے ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ گلہ نہیں ہے

5

Download Image

چیخ نکلےگی آہ نکلےگی
اب تو یہ التجا نکلےگی

4

Download Image

بڑھوا سی تیری جو محبت ملے
آپ سے دل کی یہ التجا ہوں گئی

2

Download Image

لگ ہوں اب محبت یہی التجا ہے
محبت محبت نہیں اک سزا ہے

2

Download Image

اب لگ توبہ کوئی لگ کوئی دعا
التجا ہے لگ کوئی بھی شکوہ

اب نوازے یا چھین لے مجھ سے
ا
سے کی مرضی ہے اب جو چاہے خدا

1

Download Image

اقرار کر کے ہر دفع انکار کرتا ہے
ہے التجا مری کہ ہنر یہ سکھا مجھے

1

Download Image

کہی حقیقت آ کے مٹا دیں لگ انتظار کا لطف
کہی قبول لگ ہوں جائے التجا مری

40

Download Image

التجا بنیادی طور پر دل کی گہرائیوں سے اٹھنے والی ایک مخلص دعا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر انسانی خواہشات کی نزاکت اور خلوص کو ظاہر کرتی ہے، چاہے وہ خدا سے ہو یا کسی محبوب سے۔

شاعر 'التجا' کا استعمال تڑپ اور مایوسی کے اظہار کے لیے کرتے ہیں۔ یہ رحم کی فریاد، محبت کی درخواست، یا سمجھ کی دعا ہو سکتی ہے۔ یہ لفظ اکثر کائنات کی خاموشی یا بے حسی کے برعکس ہوتا ہے۔

شاعری کی دنیا میں، 'التجا' انسانی نزاکت اور تعلق کی لازوال جستجو کا جوہر پیش کرتی ہے۔