Meaning of

اشٹ دیوتاو

isht • इष्ट

دیوتا; محبوب; عزیز

deity; beloved; cherished one

देवता; प्रिय; आराध्य

Sanskrit

اپنا رشتہ ز
ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے ہی رکھو
کچھ نہیں آسمان ہے وہ ہے وہ رکھا

55

Download Image

ا
سے لڑکی سے ب
سے اب اتنا رشتہ ہے
مل جائے تو بات وغیرہ کرتی ہے

بارش مری رب کی ایسی نعمت ہے
رونے ہے وہ ہے وہ آسانی پیدا کرتی ہے

285

Download Image

اب مزید ا
سے سے یہ رشتہ نہیں رکھا جاتا
ج
سے سے اک بے وجہ کا پردہ نہیں رکھا جاتا

پڑھنے جاتا ہوں تو تسمے نہیں باندھے جاتے
گھر پلٹتا ہوں تو بستہ نہیں رکھا جاتا

129

Download Image

خوابوں کو آنکھوں سے منہا کرتی ہے
نیند ہمیشہ مجھ سے دھوکہ کرتی ہے

ا
سے لڑکی سے ب
سے اب اتنا رشتہ ہے
مل جائے تو بات وغیرہ کرتی ہے

113

Download Image

پیار کا رشتہ ایسا رشتہ شبنم بھی چنگاری بھی
زبان ان سے روز ہی جھگڑا اور انہی سے یاری بھی

101

Download Image

یہ تیرے خط یہ تیری خوشبو یہ تیرے خواب و خیال
متاع جاں ہیں تیرے قول اور قسم کی طرح

گزشتہ سال ہے وہ ہے وہ نے نہ گنکر رکھا تھا
کسی غریب کی جوڑی ہوئی رقم کی طرح

74

Download Image

नया इक रिश्ता पैदा क्यूँँ करें हम ?
बिछड़ना है तो झगड़ा क्यूँँ करें हम?

62

Download Image

سوچیے سو سو دفع رشتہ میرا ا
سے سے
مر گیا تو ہے مارکر مجھ کو میرا قاتل

62

Download Image

کوئی تو پوچھے محبت کے ان فرشتوں سے
وفا کا شوق یہ بستر پہ کیوں اتر آیا

60

Download Image

کسی سے کوئی بھی امید رکھنا چھوڑ کر دیکھو
تو یہ رشتے نبھانا ک
سے دودمان آسان ہوں جائے

59

Download Image

اپنا رشتہ ز
ہے وہ ہے وہ ہے وہ سے ہی رکھو
کچھ نہیں آسمان ہے وہ ہے وہ رکھا

55

Download Image

ا
سے لڑکی سے ب
سے اب اتنا رشتہ ہے
مل جائے تو بات وغیرہ کرتی ہے

بارش مری رب کی ایسی نعمت ہے
رونے ہے وہ ہے وہ آسانی پیدا کرتی ہے

285

Download Image

اشٹ کا اصل مطلب دیوتا یا پوجا جانے والا شخص ہے، جسے عزت اور عقیدت سے پوجا جاتا ہے۔ شاعری میں، یہ لفظ محبوب یا عزیز کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، جو دل میں ایک مقدس مقام رکھتا ہے۔

اکثر محبوب یا پیارے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ الٰہی محبت اور عقیدت کا احساس پیدا کرتا ہے۔ دنیاوی یا زمینی محبت کے برعکس۔

شاعری میں، 'اشٹ' زمینی حدود سے آگے بڑھتا ہے، قاری کو محبوب میں الٰہی تلاش کرنے کی دعوت دیتا ہے۔