Meaning of

جان جاں

jaan-e-jan • जान-ए-जांँ

محبوبوں کا محبوب; زندگی کا جوہر

beloved of beloveds; essence of life

प्रियतमों का प्रिय; जीवन का सार

Persian

سفر مجھ ایسے سخن ور کا فرصتی کیسے
خراب عشق کو کہتی ہوں جان جاں کیسے

جاناں ا
سے سے کہ دو ہے وہ ہے وہ محفل ہے وہ ہے وہ ہوں حسینوں کی
اسے خبر ہے ہے وہ ہے وہ ہوتا ہوں کب کہاں کیسے

3

Download Image

جان جاں نے بھلا دیا مجھ کو
اپنے دل سے مٹا دیا مجھ کو

ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو ملنے گیا تو تھا ا
سے سے دوست
ا
سے نے کیا کیا سنا دیا مجھ کو

31

Download Image

ہم نے چھوڑا تو شہر جان جاں لگ دیکھا م
گر
آ گئے ہم تمہاری خوشی کے لیے

23

Download Image

جان جاں ایک نظر شام کے بعد
مجھ کو جانا ہے م
گر شام کے بعد

16

Download Image

محبت ہے وہ ہے وہ کئی ایسے بھی سودے کر گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ
حقیقت جان کے ج
سے کی بے حد ہی ڈر گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ

ملا جو بھی بھروسا کر لیا ا
سے پہ اے جان جاں
نہیں کرنا تھا جو مجھ کو وہی تو کر گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ

12

Download Image

دوری سے مجبوری ہے
مجبوری سے دوری ہے

جان جاں محسو
سے کروں
میرا پیار ضروری ہے

7

Download Image

خوبصورت اور بھی ہیں ا
سے ج
ہاں ہے وہ ہے وہ لڑکیاں
جاناں م
گر ہوں جان جاں سب لڑ
کیوں سے مختلف

6

Download Image

تیرا سوال بھی ہے ہوبہو تری جیسا
تری سوال کا بھی جان جاں جواب نہیں

5

Download Image

لکھ کر تمہارا نام ہتھیلی پہ جان جاں
قیصر نے کائنات کو ہاتھوں ہے وہ ہے وہ لے لیا

5

Download Image

مری حالت کیا بتاؤں جان جاں
ڈوبتی کشتی کبھی دیکھی ہے جاناں نے

4

Download Image

سفر مجھ ایسے سخن ور کا فرصتی کیسے
خراب عشق کو کہتی ہوں جان جاں کیسے

جاناں ا
سے سے کہ دو ہے وہ ہے وہ محفل ہے وہ ہے وہ ہوں حسینوں کی
اسے خبر ہے ہے وہ ہے وہ ہوتا ہوں کب کہاں کیسے

3

Download Image

جان جاں نے بھلا دیا مجھ کو
اپنے دل سے مٹا دیا مجھ کو

ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو ملنے گیا تو تھا ا
سے سے دوست
ا
سے نے کیا کیا سنا دیا مجھ کو

31

Download Image

اپنے اصل معنی میں، 'جان جاں' اس شخص کا تصور پیش کرتا ہے جو سب سے زیادہ عزیز ہے، زندگی کا جوہر۔ شاعری میں، یہ اصطلاح گہرے تعلق اور عقیدت کو ظاہر کرتی ہے جو عام محبت سے بڑھ کر ہے، اور حتمی محبت اور آرزو کی علامت بن جاتی ہے۔

شاعر 'جان جاں' کا استعمال اکثر بے مثال محبت کی گہرائی کو ظاہر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسا لفظ ہے جو محبوب کو صرف محبت نہیں بلکہ زندگی کے وجود کی وجہ سمجھتا ہے۔ یہ فقرہ جدائی کے درد کو بھی بیدار کرتا ہے، کیونکہ محبوب کو زندگی کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔

شاعری کی دنیا میں، 'جان جاں' محبت کی حتمی عقیدت کی ایک لازوال علامت بن جاتا ہے۔ یہ اس ابدی حقیقت کو سرگوشی کرتا ہے کہ کچھ رشتے وجود کے تانے بانے میں بنے ہوتے ہیں۔