Meaning of

زلف

julfe • जुुल्फ़

زلفیں; بالوں کی لہریں; گیسو

tresses; curls; locks of hair

लटें; बालों की लहरें; जुल्फें

Persian

اپنے سر اک بلا تو لینی تھی
ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے حقیقت زلف اپنے سر لی ہے

51

Download Image

ہمارے بعد تری عشق ہے وہ ہے وہ نئے لڑکے
بدن تو چو
ہے وہ ہے وہ ہے وہ گے زلفیں نہیں سنواریں گے

336

Download Image

تپتے صحراؤں ہے وہ ہے وہ سب کے سر پہ آنچل ہوں گیا تو
ا
سے نے زلفیں کھول دیں اور مسئلہ حل ہوں گیا تو

196

Download Image

ا
سے کی زلفیں ادا
سے ہوں جائے
ا
سے دودمان روشنی بھی ٹھیک نہیں

جاناں نے ناراض ہونا چھوڑ دیا
اتنی ناراضگی بھی ٹھیک نہیں

128

Download Image

الجھ کر کے تیری زلفوں ہے وہ ہے وہ یوں آباد ہوں جاؤں
کہ چنو چھوڑنا کا ہے وہ ہے وہ امین آباد ہوں جاؤں

ہے وہ ہے وہ ہے وہ یمنا کی طرح تنہا نہاروں تاج کو کب تک
کوئی گنگا ملے تو ہے وہ ہے وہ الہ آباد ہوں جاؤں

101

Download Image

یہ زلف ا
گر کھل کے بکھر جائے تو اچھا
ا
سے رات کی تقدیر سنور جائے تو اچھا

ج
سے طرح سے تھوڑی سی تری ساتھ کٹی ہے
باقی بھی اسی طرح گزر جائے تو اچھا

84

Download Image

چاند چہرہ زلف دریا بات خوشبو دل چمن
اک تمہیں دے کر خدا نے دے دیا کیا کیا مجھے

80

Download Image

کیوں لکھوں زلف و لب و رخسار پہ نغمے بے حد
پیار کی پہلی نظر رسوائیاں ہی کیوں لکھوں

75

Download Image

بھولبھلیاں تھا ان زلفوں ہے وہ ہے وہ لیکن
ہم کو ا
سے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی راہیں دکھتی تھیں

آپ کی آنکھوں کو دیکھا تو علم ہوا
کیوں اوشا کو کیول آنکھیں دکھتی تھیں

63

Download Image

نیند ا
سے کی ہے دماغ ا
سے کا ہے راتیں ا
سے کی ہیں
تیری زلفیں ج
سے کے بازو پر پریشاں ہوں گئیں

61

Download Image

اپنے سر اک بلا تو لینی تھی
ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے حقیقت زلف اپنے سر لی ہے

51

Download Image

ہمارے بعد تری عشق ہے وہ ہے وہ نئے لڑکے
بدن تو چو
ہے وہ ہے وہ ہے وہ گے زلفیں نہیں سنواریں گے

336

Download Image

زلف کا لفظ بہتے ہوئے، سیاہ بالوں کی تصویر پیش کرتا ہے جو آبشار کی طرح گرتے ہیں، اکثر خوبصورتی اور دلکشی کی علامت ہوتے ہیں۔ شاعری میں، یہ صرف جسمانی وضاحت تک محدود نہیں رہتا بلکہ محبوب کے راز و دلکشی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

شعراء اکثر 'زلف' کا استعمال محبوب کی دلکش خوبصورتی کے بیان کے لئے کرتے ہیں۔ یہ محبت کی دلکش اور کبھی کبھار مغلوب کر دینے والی فطرت کا استعارہ ہے۔ یہ لفظ الجھن کا بھی اشارہ دے سکتا ہے، چاہے وہ جسمانی ہو یا جذباتی۔

شاعری کی دنیا میں، 'زلف' خوبصورتی اور محبت کی پیچیدگیوں کا جوہر پکڑتا ہے۔ یہ دلکشی اور جذبات کے پیچیدہ رقص کی علامت ہے۔