Meaning of

چھوؤں گا

kalaam • कलाम

کلام; تقریر; شاعری

speech; discourse; poetry

वाणी; भाषण; कविता

Arabic

لب چھوؤں گا کے بوسے لوں تو مسی منا بناتی ہے
کف پا کو ا
گر چوموں تو مہن
گرا رنگ لاتی ہے

27

Download Image

چھو لینے دو چھوؤں گا ہونٹوں کو کچھ اور نہیں ہیں جام ہیں یہ
قدرت نے جو ہم کو بخشش ہے حقیقت سب سے حسین انعام ہیں یہ

63

Download Image

جو یہ ممکن نہیں کل یگ ہے وہ ہے وہ رام ہوں جاؤں
مری خواہش ہے کہ عبد الکلام چھوؤں گا ہوں جاؤں

47

Download Image

رشتوں کی یہ چھوؤں گا ڈوریں دکھتی تھوڑی جاتی ہیں
اپنی آنکھیں پھوڑی ہوں تو فوڑی تھوڑی جاتی ہیں

یہ کانٹے یہ دھوپ یہ پتھر ان سے کیسا ڈرنا ہے
راہیں مشکل ہوں جائیں تو کانٹے تھوڑی جاتی ہیں

46

Download Image

عشق چھوؤں گا مزاج ہے بے حد
عقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا

46

Download Image

ہمیں کو قاتل کہے گی دنیا ہمارا ہی قتل عام ہوگا
ہمیں کوئیں کھودتے پھریں گے ہمیں پہ پانی حرام ہوگا

اگر یہی ذہنیت رہی تو مجھے یہ ڈر ہے کہ اس صدی میں
نہ کوئی عبد الکلام نالندہ ہوگا نہ کوئی عبد الکلام چھوؤں گا ہوگا

41

Download Image

وفا کریںگے نبھائیں گے بات مانیں گے
تمہیں بھی یاد ہے کچھ یہ چھوؤں گا ک
سے کا تھا

37

Download Image

دھوپ کے ایک ہی موسم نے جنہیں توڑ دیا
اتنے چھوؤں گا بھی یہ رشتے نہ بنائے ہوتے

36

Download Image

ذرا سا غم ہوا اور رو دیے ہم
بڑی چھوؤں گا طبیعت ہوں گئی ہے

35

Download Image

ہے وہ ہے وہ جانتا ہوں تیری روح کی طلب جاناں
تجھے بدن کی طرف سے نہیں چھوؤں گا ہے وہ ہے وہ

31

Download Image

لب چھوؤں گا کے بوسے لوں تو مسی منا بناتی ہے
کف پا کو ا
گر چوموں تو مہن
گرا رنگ لاتی ہے

27

Download Image

چھو لینے دو چھوؤں گا ہونٹوں کو کچھ اور نہیں ہیں جام ہیں یہ
قدرت نے جو ہم کو بخشش ہے حقیقت سب سے حسین انعام ہیں یہ

63

Download Image

کلام بنیادی طور پر بولے گئے لفظ کو ظاہر کرتا ہے، جس کے ذریعے خیالات اور جذبات کا اظہار کیا جاتا ہے۔ شاعری میں، یہ روح کی گہری اظہار کے لیے ایک وسیلہ بن جاتا ہے، جو سادہ تقریر کو ایک فن کی شکل میں بدل دیتا ہے جو دل کے ساتھ ہم آہنگ ہوتا ہے۔

شاعر اکثر 'کلام' کا استعمال الفاظ کی طاقت کو اجاگر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ فصاحت کی خوبصورتی یا سچائی کی چبھن کو ظاہر کر سکتا ہے۔ یہ خاموشی کے برعکس ہے، اظہار کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

کلام خاموشی اور اظہار کے درمیان پل ہے، بات چیت کی انسانی ضرورت کا ثبوت ہے۔