Meaning of

خموں

khamo • ख़मों

موڑ; خم; پیچ

curves; bends; twists

मोड़; घुमाव; वक्र

Persian

اور کیا ا
سے سے زیادہ کوئی دل پسند نرمی
دل کے زخموں کو چھوا ہے تری گالوں کی طرح

31

Download Image

خموشی تو یہی بتلا رہی ہے
اداسی را
سے مجھ کو آ رہی ہے

مجھے جن غلطیوں سے سیکھنا تھا
وہی پھروں زندگی دوہرا رہی ہے

63

Download Image

اسے بےچین کر جاؤں گا ہے وہ ہے وہ بھی
خموشی سے گزر جاؤں گا ہے وہ ہے وہ بھی

53

Download Image

جاناں ا
سے خاموش طبیعت پہ طنز مت کرنا
حقیقت سوچتا ہے بے حد اور بولتا کم ہے

52

Download Image

چارا
گر اے چارا
گر چلاتی تھی
زخموں کو بھی ہاتھ نہیں لگواتی تھی

پتا نہیں کیسا ماحول تھا ا
سے کے گھر
برقعہ پہن کے شرٹیں لینے آتی تھی

48

Download Image

دباتی ہے گلہ میرا خموشی
اداسی جھانکتی ہے کھڑ
کیوں سے

47

Download Image

خاموش جھیل کے پانی ہے وہ ہے وہ حقیقت اداسی تھی
کہ دل بھی ڈوب گیا تو رات ماہتاب کے ساتھ

45

Download Image

یوں بے ترتیب زخموں نے بتایا راز قاتل کا
سلیقے سے جو میرا قتل گر ہوتا تو کیا ہوتا

42

Download Image

جنہیں سب لوگ گونگا بولتے ہیں
میرے آگے حقیقت اونچا بولتے ہیں

خموشی بولنے والوں کی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ
ہمیں سب سے زیادہ بولتے ہیں

40

Download Image

زندگی یوں بھی گزاری جا رہی ہے
چنو کوئی جنگ ہاری جا رہی ہے

ج
سے جگہ پہلے سے زخموں کے نشان تھے
پھروں وہیں پہ چوٹ ماری جا رہی ہے

39

Download Image

اور کیا ا
سے سے زیادہ کوئی دل پسند نرمی
دل کے زخموں کو چھوا ہے تری گالوں کی طرح

31

Download Image

خموشی تو یہی بتلا رہی ہے
اداسی را
سے مجھ کو آ رہی ہے

مجھے جن غلطیوں سے سیکھنا تھا
وہی پھروں زندگی دوہرا رہی ہے

63

Download Image

خموں کا اصل مطلب جسمانی موڑ یا پیچ ہے، جو اکثر قدرت یا بنائی گئی اشیاء میں دیکھا جاتا ہے۔ شاعری نے اس لفظ کو اپنایا ہے تاکہ قدرتی دنیا اور انسانی جذبات میں پائی جانے والی روانی اور خوبصورتی کو بیان کیا جا سکے۔

شاعر اکثر 'خموں' کا استعمال رقاصہ کی حرکات کی خوبصورتی کو بیان کرنے کے لئے کرتے ہیں۔ یہ قسمت کے غیر متوقع موڑ یا محبت کے پیچیدہ راستوں کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔

شاعری میں، 'خموں' زندگی کی خوبصورت غیر متوقعی کا جوہر پکڑتا ہے۔