Meaning of

خوددار

khuddaar • ख़ुद्दार

خوددار; باوقار

self-respecting; dignified

स्वाभिमानी; गरिमामय

Persian

نہیں کرتا کوئی خود سے کسی کو یاد
ج
ہاں دیکھو و
ہاں دودمان بیٹھے ہیں

3

Download Image

مجھے دشمن سے بھی خودداری کی امید رہتی ہے
کسی کا بھی ہوں سر قدموں ہے وہ ہے وہ سر اچھا نہیں لگتا

57

Download Image

اپنی خودداری تو پامال نہیں کر سکتے
ا
سے کا نمبر ہے م
گر کال نہیں کر سکتے

46

Download Image

دولت شہرت جیسی چھوٹی چیزوں کا
خودداری کے آگے کوئی مول نہیں

32

Download Image

شام غم کروٹ بدلتا ہی نہیں
سمے بھی دودمان ہے تری بغیر

28

Download Image

دوست دشمن آجکل عیار ہونا چاہیے
یار عاشق بھی ترا دودمان ہونا چاہیے

نوکری ہے وہ ہے وہ ہوں ترقی اور کیا ہی چاہیے
زندگی کے کشت کا ویپار ہونا چاہیے

12

Download Image

کچھ حقیقت بھی ادنا انساں ہے
کچھ اپنی بھی خودداری ہے

5

Download Image

ہے وہ ہے وہ ا
سے سے بھیک مانگوں تو محبت مل بھی سکتی ہے
م
گر کہتی ہے خودداری محبت بھیک کی اور تو

4

Download Image

خود سے میرا تقاضا ہے یہ خودداری
گڑگڑانا مجھے اچھا نہیں لگتا

4

Download Image

بکنے کو تو بکتی ہے خودداری بھی
ب
سے تھوڑا سا ریٹ زیادہ کرتی ہے

3

Download Image

نہیں کرتا کوئی خود سے کسی کو یاد
ج
ہاں دیکھو و
ہاں دودمان بیٹھے ہیں

3

Download Image

مجھے دشمن سے بھی خودداری کی امید رہتی ہے
کسی کا بھی ہوں سر قدموں ہے وہ ہے وہ سر اچھا نہیں لگتا

57

Download Image

خوددار کا لفظ خود احترام اور وقار کا احساس دلاتا ہے۔ یہ اس اندرونی طاقت اور فخر کی بات کرتا ہے جو ایک فرد اکثر خاموشی سے اٹھاتا ہے۔ شاعری میں، یہ استقامت اور مشکلات کے سامنے اپنی قدر کے خاموش دعوے کی علامت ہے۔

شاعر اکثر 'خوددار' کا استعمال ان کرداروں کو پیش کرنے کے لیے کرتے ہیں جو خاموش طاقت اور غیر متزلزل وقار کو مجسم کرتے ہیں۔ یہ اطاعت اور سمجھوتے کے موضوعات کے برعکس ہے، جو اپنی زمین پر کھڑے ہونے کی عظمت کو اجاگر کرتا ہے۔

شاعری کے منظر نامے میں، 'خوددار' اندرونی وقار کی طاقت کا ثبوت ہے۔ یہ اس خاموش طاقت کا جشن مناتا ہے جو حقیقی عظمت کی تعریف کرتی ہے۔