Meaning of

شیخ جی

koo-e-butaan • कू-ए-बुताँ

بتوں کی گلی; محبوبوں کی گلی

lane of idols; street of beloveds

मूर्तियों की गली; प्रेमिकाओं की गली

Persian

نکلے تھے چنو دوستوں آدم مکیں سے
کوئے بتاں سے ایسے نکالے گئے ہیں ہم

0

Download Image

اسی دنیا ہے وہ ہے وہ دکھا دیں تمہیں جنت کی بہار
شیخ جی جاناں بھی ذرا کوئے بتاں تک آؤ

24

Download Image

ان سے خوف ہے وہ ہے وہ پوچھ بیٹھا ہوں
شیخ جی آپ اور ی
ہاں کیسے

7

Download Image

خدا جانے کے کیا آیا گماں ہے وہ ہے وہ ہے وہ
چلا آیا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئے بتاں ہے وہ ہے وہ ہے وہ

چمن ہے وہ ہے وہ پھول یوں نوحہ کنان ہے
کوئی لے لے مجھے اپنی اماں ہے وہ ہے وہ

1

Download Image

زیب نظر لیے دست مبارک ہے وہ ہے وہ شجر
شیخ جی رو
کیے مسجد کی طرف جاتا ہے

1

Download Image

یوں لگ رہا ہے کوئے بتاں ہے وہ ہے وہ مجھے شجر
چنو ہے وہ ہے وہ آج خلد بری ہے وہ ہے وہ پہنچ گیا تو

0

Download Image

منکر عشق کے سینے سے نکلتا ہے دھواںجانب کوئے بتاں مری قدم اٹھتے ہیں

روک لیتی ہیں حقیقت آنکھوں کا اشارہ دے کر
ان کی محفل سے ا
گر جانے کو ہم اٹھتے ہیں

0

Download Image

کل یہ پیغام ہر اک پیر و جواں تک پہنچے
حال افسردہ ہے وہ ہے وہ ہم شیخ جی تک پہنچے

0

Download Image

نکلے تھے چنو دوستوں آدم مکیں سے
کوئے بتاں سے ایسے نکالے گئے ہیں ہم

0

Download Image

اسی دنیا ہے وہ ہے وہ دکھا دیں تمہیں جنت کی بہار
شیخ جی جاناں بھی ذرا کوئے بتاں تک آؤ

24

Download Image

اپنے اصل معنی میں، 'کوئے بتاں' بتوں سے بھری جگہ کی تصویر پیش کرتا ہے، جو حسن و دلکشی کا استعارہ ہے۔ شاعری میں، یہ ان دلکش گلیوں کی نمائندگی کرتا ہے جہاں محبوب رہتے ہیں، ایک ایسی جگہ جو آرزو اور خواہش سے بھری ہوتی ہے۔

شعراء 'کوئے بتاں' کا استعمال محبوب کے مسکن کی پراسراریت کو اجاگر کرنے کے لئے کرتے ہیں۔ یہ دلکش راستوں سے گزرنے کے سفر کا اشارہ دیتا ہے۔ یہ عام گلیوں کے برعکس، خوابوں کی دنیا کی جھلک پیش کرتا ہے۔

شاعری کی دنیا میں، 'کوئے بتاں' دل کی زیارت کا استعارہ بن جاتا ہے۔ یہ قاری کو محبت اور حسن کی گلیوں میں بھٹکنے کی دعوت دیتا ہے۔