Meaning of

لشکر

lashkar • लश्कर

فوج; دستہ; لشکر

army; troop; host

सेना; दल; समूह

Persian

دنیا سے محبت اب یار ہم نہیں کرتے
اب کسی کو شدت سے پیار ہم نہیں کرتے

اک ہزار مشرک پر تین سو ہی کافی ہیں
ایسے ویسے لشکر پر وار ہم نہیں کرتے

2

Download Image

ذہن سے یادوں کے لشکر جا چکے
حقیقت مری محفل سے اٹھ کر جا چکے

میرا دل بھی چنو لا
گرا ہے
سب حکومت کر کے باہر جا چکے

206

Download Image

زندہ رہنا ہے تو حالات سے ڈرنا کیسا
جنگ لازم ہوں تو لشکر نہیں دیکھے جاتے

22

Download Image

دشمنوں سے مل کے ا
سے نے اک نیا لشکر بنایا
ہار جب دشمن گیا تو تو صلح کا اوصر بنایا

15

Download Image

ہماری بستی سے لشکر یہ کہ کے لوٹ گیا تو
چلو ی
ہاں سے ی
ہاں سرفروش رہتے ہیں

4

Download Image

کئی لشکر ریاست ہوں گئی برباد چاہت ہے وہ ہے وہ ہے وہ
محبت مسئلہ ہے روز سنوائی نہیں ہوتی

4

Download Image

ساتھ لشکر بنا کے سر و ساماں
یہ بھی منظر بنا کے سر و ساماں

اب تلک موم تھے محبت ہے وہ ہے وہ ہے وہ
خود کو پتھر بنا کے سر و ساماں

3

Download Image

इन्हीं बातों से सब समझ आ गया है
कोई सा भी लश्कर मुजादिल नहीं है

2

Download Image

وہی جذبہ ساحل توڑنے کو لشکر موجاں
سمندر تجھ سے تو کچھ اور ہی امید تھی مجھ کو

2

Download Image

تلوار تری تیر یا خنجر کے برابر
حقیقت آج اکیلا ہی تھا لشکر کے برابر

2

Download Image

دنیا سے محبت اب یار ہم نہیں کرتے
اب کسی کو شدت سے پیار ہم نہیں کرتے

اک ہزار مشرک پر تین سو ہی کافی ہیں
ایسے ویسے لشکر پر وار ہم نہیں کرتے

2

Download Image

ذہن سے یادوں کے لشکر جا چکے
حقیقت مری محفل سے اٹھ کر جا چکے

میرا دل بھی چنو لا
گرا ہے
سب حکومت کر کے باہر جا چکے

206

Download Image

لشکر کا اصل مطلب ایک بڑی فوج یا سپاہیوں کے گروہ سے ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر عظمت اور طاقت کی تصاویر کو ابھارتا ہے، کبھی کبھار اس افراتفری اور ہلچل کی طرف اشارہ کرتا ہے جو ایسی قوتوں کے ساتھ آتی ہے۔

شاعر اکثر 'لشکر' کا استعمال جنگ کے مناظر کی تصویر کشی یا زبردست قوت کی علامت کے طور پر کرتے ہیں۔ یہ دل کی اندرونی جدوجہد کی نمائندگی بھی کر سکتا ہے، جذبات کو ایک فوج سے تشبیہ دیتے ہوئے۔

لشکر طاقت اور افراتفری کی دوگانگی کو سمیٹے ہوئے ہے، بیرونی اور اندرونی دونوں جنگوں کی یاد دلاتا ہے۔