Meaning of

ہری

mahfooz • महफ़ूज़

محفوظ; مامون; محفوظ

safe; secure; protected

सुरक्षित; महफूज़; संरक्षित

Arabic

مجھے معلوم ہے ا
سے کا ہری پھروں ک
ہاں ہوگا
پرندہ آ
سماں چھونے ہے وہ ہے وہ جب ناکام ہوں جائے

40

Download Image

کتنا ہری ہوں ہے وہ ہے وہ کونے ہے وہ ہے وہ ہے وہ
کوئی اڑچن نہیں ہے رونے ہے وہ ہے وہ ہے وہ

ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو بچا لیا ورنا
ڈوب جاتا مجھے ڈبونے ہے وہ ہے وہ

98

Download Image

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں
ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں

جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو
جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں

77

Download Image

اک کلی کی پلکوں پر سرد دھوپ ٹھہری تھی
عشق کا مہی
لگ تھا حسن کی دوپہری تھی

خواب یاد آتے ہیں اور پھروں ڈراتے ہیں
جاگنا بتاتا ہے نیند کتنی گہری تھی

64

Download Image

جہان بھر ہے وہ ہے وہ لگ ہوں میسر جو کوئی شا
لگ ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ بتانا
نہیں ملے گر کوئی ہری تو لوٹ آنا ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ بتانا

کچھ ایسی باتیں جو انکہی ہوں م
گر حقیقت اندر سے کھا رہی ہوں
لگے کسی کو بتانا ہے پر نہیں بتانا ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ بتانا

63

Download Image

शब बसर करनी है, महफ़ूज़ ठिकाना है कोई
कोई जंगल है यहाँ पास में ? सहरा है कोई ?

47

Download Image

ا
گر ہمارے ہی دل ہے وہ ہے وہ ہری چاہیے تھا
تو پھروں تجھے ذرا پہلے بتانا چاہیے تھا

45

Download Image

تجھ کو سوچا تو پتا ہوں گیا تو رسوائی کو
ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ہری سمجھ رکھا تھا تنہائی کو

45

Download Image

انسان کو ہی عقل یہ آنا تو ہے نہیں
دھرتی کے ہی علاوہ ہری تو ہے نہیں

بھر لو سلینڈروں ہے وہ ہے وہ ج
ہاں بھر کی آکسیجن
جاناں کو م
گر درخت لگانا تو ہے نہیں

44

Download Image

گر کوئی مجھ سے آ کر کہتا یار اداسی ہے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ اس کا کو گلے دیکھیں گے کہتا یار اداسی ہے

ہوتا درویش ا
گر ہے وہ ہے وہ تو پھروں ساری دو پہری
گلیوں ہے وہ ہے وہ صدا دیکھیں گے کہتا یار اداسی ہے

43

Download Image

مجھے معلوم ہے ا
سے کا ہری پھروں ک
ہاں ہوگا
پرندہ آ
سماں چھونے ہے وہ ہے وہ جب ناکام ہوں جائے

40

Download Image

کتنا ہری ہوں ہے وہ ہے وہ کونے ہے وہ ہے وہ ہے وہ
کوئی اڑچن نہیں ہے رونے ہے وہ ہے وہ ہے وہ

ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو بچا لیا ورنا
ڈوب جاتا مجھے ڈبونے ہے وہ ہے وہ

98

Download Image

محفوظ کا لفظ حفاظت اور تحفظ کا احساس پیدا کرتا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر ایک پناہ گاہ یا ایک محبوب حالت کی علامت ہوتا ہے، جہاں انسان دنیا کی افراتفری سے محفوظ محسوس کرتا ہے۔

شاعر 'محفوظ' کا استعمال محبوب کی آغوش، ایک پرامن گھر، یا سکون کے لمحے کو بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ ان الفاظ کے برعکس ہے جو غیر محفوظیت یا کمزوری کو ظاہر کرتے ہیں۔

اپنی اصل میں، 'محفوظ' زندگی کے طوفانوں کے درمیان ایک پناہ کی خواہش کو پکڑتا ہے۔