Meaning of

مہتاب

mahtaab • महताब

چاند; چاندنی

moon; moonlight

चाँद; चाँदनी

Persian

چاہے آب و تاب سمجھ لو یا پھروں کوئی خواب سمجھ لو
آوارہ پھروں
لگ ہے مجھ کو چاہو تو مہتاب سمجھ لو

سمجھو مجھ کو گہرائی سے پہچانو تو پرچھائیں سے
ایک اکیلا ہی کافی ہوں بے شک جاناں سیلاب سمجھ لو

12

Download Image

ہر ایک رات کو مہتاب دیکھنے کے لیے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاگتا ہوں ترا خواب دیکھنے کے لیے

50

Download Image

خاموش جھیل کے پانی ہے وہ ہے وہ حقیقت اداسی تھی
کہ دل بھی ڈوب گیا تو رات ماہتاب کے ساتھ

45

Download Image

جلی ہیں دھوپ ہے وہ ہے وہ شکلیں جو ماہتاب کی تھیں
کھنچی ہیں کانٹوں پہ جو پتیاں گلاب کی تھیں

44

Download Image

کرنے والے ہے وہ ہے وہ میر چنو خواب مت دیکھا کروں
باولے ہوں جاؤگے مہتاب مت دیکھا کروں

30

Download Image

حقیقت مری لم
سے سے مہتاب بن چکا ہوتا
م
گر ملا بھی تو جگنو پکڑنے والوں کو

28

Download Image

شب کی آغوش ہے وہ ہے وہ مہتاب اتارا ا
سے نے
مری آنکھوں ہے وہ ہے وہ کوئی خواب اتارا ا
سے نے

26

Download Image

تو نے مہتاب نکلتے ہوئے دیکھا ہے کبھی
اور مہتاب بھی ایسے کسی دروازے سے

26

Download Image

ملی جن سے جفائیں ان کو بھی صاحب کردار کرنا تھا
ہر اک پتھر ہوئے دل کو پناہ مہتاب کرنا تھا

ستم کیا ہے کہ خود بیزار بیٹھا ہے حقیقت لڑکا آج
جسے کل غیر کی بستی کو بھی شاداب کرنا تھا

16

Download Image

پاؤں ساکت ہوں گئے ثروت کسی کو دیکھ کر
اک کشش مہتاب جیسی چہرہ دلبر ہے وہ ہے وہ تھی

14

Download Image

چاہے آب و تاب سمجھ لو یا پھروں کوئی خواب سمجھ لو
آوارہ پھروں
لگ ہے مجھ کو چاہو تو مہتاب سمجھ لو

سمجھو مجھ کو گہرائی سے پہچانو تو پرچھائیں سے
ایک اکیلا ہی کافی ہوں بے شک جاناں سیلاب سمجھ لو

12

Download Image

ہر ایک رات کو مہتاب دیکھنے کے لیے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاگتا ہوں ترا خواب دیکھنے کے لیے

50

Download Image

لفظ 'مہتاب' چاند کی نرم اور لطیف روشنی کو ظاہر کرتا ہے۔ شاعری میں یہ اکثر حسن، سکون اور ایک قسم کی تڑپ کی علامت ہوتا ہے۔ چاندنی کی روشنی نرمی سے تاریکی کو روشن کرتی ہے، جیسے کسی نے ہلکے سے چھوا ہو۔

شاعر 'مہتاب' کا استعمال محبوب کے چہرے اور چاند کے درمیان مماثلت دکھانے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ اکثر رات، خوابوں اور محبوب کی غیر معمولی خوبصورتی کے حوالے سے آتا ہے۔ یہ لفظ چاند کی مستقل مزاجی اور انسانی جذبات کے درمیان تضاد بھی ظاہر کر سکتا ہے۔

مہتاب روشنی اور سائے کے نازک کھیل کو پکڑتا ہے، جو رات کی خوبصورتی اور راز کو سموئے ہوئے ہے۔