Meaning of

محو

mahv • मह्व

محویت; غرق; خیالوں میں کھویا

absorbed; engrossed; lost in thought

मग्न; तल्लीन; विचारों में खोया

Arabic

گئے زمانے کی چاپ جن کو سمجھ رہے ہوں
حقیقت آنے والے ادا
سے لمحوں کی سسکیاں ہیں

22

Download Image

ایک آواز کہ جو مجھ کو بچا لیتی ہے
زندگی آخری لمحوں ہے وہ ہے وہ منا لیتی ہے

ج
سے پہ مرتی ہوں اسے مڑ کے نہیں دیکھتی حقیقت
اور جسے مارنا ہوں یار بنا لیتی ہے

133

Download Image

طریقے اور بھی ہیں ا
سے طرح پرکھا نہیں جاتا
چراغوں کو ہوا کے سامنے رکھا نہیں جاتا

محبت فیصلہ کرتی ہے پہلے چند لمحوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ
ج
ہاں پر عشق ہوتا ہے و
ہاں سوچا نہیں جاتا

130

Download Image

زندگی ایک فن ہے لمحوں کو
اپنے انداز سے گنوانے کا

85

Download Image

مجھے اندھیرے سے بات کرنی ہے سو کرا دو دیا بجھا دو
کچھ ایک لمحوں کو روشنی کا گلہ دبا دو دیا بجھا دو

رواج محفل نبھا رہا ہوں بتا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ جا رہا ہوں
مجھے وداع دو جو رونا چاہے ا
نہیں بلا دو دیا بجھا دو

52

Download Image

چند مصروف نشاط کی چن کر مدتوں محو یا
سے رہتا ہوں
تیرا ملنا خوشی کی بات صحیح تجھ سے مل کر ادا
سے رہتا ہوں

49

Download Image

عشق ہے عشق یہ مزاق نہیں
چند لمحوں ہے وہ ہے وہ فیصلہ نہ کروں

43

Download Image

طاہر ان بے ب
سے لمحوں کا عہد نبھانا ہوگا
ا
سے نے کہا تھا خط مت لکھنا غزلیں لکھتے رہنا

35

Download Image

ہر ایک بے وجہ ی
ہاں محو خواب لگتا ہے
کسی نے ہم کو جگایا نہیں بے حد دن سے

32

Download Image

یوں لگ کر وصل کے لمحوں کو ہوں
سے سے تعبیر
چند پتے ہی تو گرفت ہیں شجر سے ہے وہ ہے وہ نے

27

Download Image

گئے زمانے کی چاپ جن کو سمجھ رہے ہوں
حقیقت آنے والے ادا
سے لمحوں کی سسکیاں ہیں

22

Download Image

ایک آواز کہ جو مجھ کو بچا لیتی ہے
زندگی آخری لمحوں ہے وہ ہے وہ منا لیتی ہے

ج
سے پہ مرتی ہوں اسے مڑ کے نہیں دیکھتی حقیقت
اور جسے مارنا ہوں یار بنا لیتی ہے

133

Download Image

محویت کا لفظ ایک گہری غرقابی کا احساس پیدا کرتا ہے، جہاں انسان خیالات یا جذبات میں اتنا کھو جاتا ہے کہ ارد گرد کی دنیا دھندلی لگنے لگتی ہے۔ شاعری میں، یہ لفظ اس لمحے میں کھو جانے کے احساس کو پکڑتا ہے، چاہے وہ محبت میں ہو، غور و فکر میں یا فن میں۔

شاعر اکثر 'محویت' کا استعمال محبوب کی نظروں میں کھوئے ہوئے عاشق، اپنی تخلیق میں غرق فنکار، یا گہرے غور و فکر میں ڈوبے ہوئے مفکر کو بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ ان الفاظ کے برعکس ہے جو توجہ کی بٹوار یا سطحی مشغولیت کا اشارہ دیتے ہیں۔

شاعری کی دنیا میں، 'محویت' ہمیں اپنی غرقابی کی گہرائیوں اور اس کے اندر چھپی خوبصورتی کو تلاش کرنے کی دعوت دیتا ہے۔