Meaning of

مخمل

makhmal • मख़मल

مخمل; نرمی; عیش

velvet; softness; luxury

मखमल; कोमलता; विलासिता

Persian

والدین بستر تو گھر ہے وہ ہے وہ کل ہی ہے وہ ہے وہ لا دوں م
گر
سوچتا ہوں نیند آنکھوں ہے وہ ہے وہ ک
ہاں سے لاؤںگا

0

Download Image

نبھایا ج
سے سے بھی رشتہ تو پھروں حد ہے وہ ہے وہ رہے ہیں ہم
کسی کے مخملی ت
کیے کے اوپر سر نہیں رکھا

8

Download Image

یہ والدین بھنگڑے تو تجھ کو ہی مبارک ہوں
اے دوست مجھے ب
سے ماں کی گود ہی کافی ہے

6

Download Image

فٹ پاتھوں پر سونے والوں کی دی ہے وہ ہے وہ امبر ہے
مخمل پر نقش در نقش والے ہر سپنے کی حد ہوتی ہے

2

Download Image

نام لکھوں جو تیرا پتھر بھی مخمل ہوں جائے
چاند لکھوں تو سارے تارے بھی اوجھل ہوں جائے

جام ک
ہوں تو آنکھیں تیری دیکھے و مری کافر
نام لوں تیرا محفل ہے وہ ہے وہ تو یار غزل ہوں جائے

2

Download Image

ज़रा से हम ही बेकल हो गए हैं
सभी ग़म वरना ओझल हो गए हैं

जहाँ पैवंदकारी की थी तू ने
वो दिल वीरान जंगल हो गए हैं

हमारा मसअला ही मसअला है
मसाइल साथ के हल हो गए हैं

तेरे गाओं के मुर्दा दिल बसा कर
हमारे शहर बोझल हो गए हैं

उसे इक लम्हे की फ़ुर्सत मिली है
मेरे दिन रात इक पल हो गए हैं

बड़ी ताख़ीर से हम मुस्कुराए
कहा था उस ने पागल हो गए हैं

शजरकारी तेरी यादों में की है
हमारे पेड़ संदल हो गए हैं

वहाँ दरवाज़ा उस ने दिल का खोला
यहाँ रस्ते मुअत्तल हो गए हैं

तेरे कूचे से गुज़रे थे मुसाफ़िर
सुना है पाँव मख़मल हो गए हैं

2

Download Image

چاند چھونے کے ہی برابر ہے
مخملی ہاتھ چھو لیا جائے

1

Download Image

بھلے ہوں سامنے مخمل م
گر ہم رہ نہیں سکتے
دشا پرتیکول ہوں لیکن ابھی ہم بہ نہیں سکتے

ہے اسمنج
سے یہی جیون کی را
ہوں کا سنو یاروں
جسے ہم سہ نہیں سکتے اسے ہی کہ نہیں سکتے

1

Download Image

عشق پر اک کتاب لکھنا جاناں
وصل کو لاجواب لکھنا جاناں

ا
سے کے مٹےگی والدین ہیں ساب
ان کو کھلتا گلاب لکھنا جاناں

1

Download Image

خلےگی حسن کو رائےگاں مت کریں
والدین کرنے والے اوڑھئے تو صحیح

1

Download Image

والدین بستر تو گھر ہے وہ ہے وہ کل ہی ہے وہ ہے وہ لا دوں م
گر
سوچتا ہوں نیند آنکھوں ہے وہ ہے وہ ک
ہاں سے لاؤںگا

0

Download Image

نبھایا ج
سے سے بھی رشتہ تو پھروں حد ہے وہ ہے وہ رہے ہیں ہم
کسی کے مخملی ت
کیے کے اوپر سر نہیں رکھا

8

Download Image

مخمل نرمی اور عیش کا احساس پیدا کرتا ہے، جو اکثر شان و شوکت اور دولت سے وابستہ ہوتا ہے۔ شاعری میں، یہ نازک اور نفیس کی علامت ہے، جو عمدگی کے دلکشی کو پکڑتا ہے۔

شاعر 'مخمل' کا استعمال نرمی کی خوبصورتی اور عیش کی دولت کو اجاگر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ سخت اور معمولی کے برعکس، غیر معمولی کی دلکشی کو نمایاں کرتا ہے۔

مخمل نرمی کی شان کا مجسمہ ہے۔ یہ ہمیں نرمی اور عیش میں پائی جانے والی خوبصورتی کی یاد دلاتا ہے۔