Meaning of

مقطع

maqtaa • मक़ता

غزل کا آخری شعر

final couplet of a ghazal

ग़ज़ल का अंतिम शेर

Arabic

درد سے مجھ کو نکلنا بھی نہیں ہے
سچ ک
ہوں تو کوئی رستہ بھی نہیں ہے

زندگی ایسی غزل ہے دوست ج
سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ
شعر کم ہیں اور مقطع بھی نہیں ہے

1

Download Image

کتاب عشق ہے وہ ہے وہ ہر آہ ایک آیت ہے
پر آنسوؤں کو حروف مقطعات سمجھ

43

Download Image

مری باتوں کو حقیقت آدھا سمجھتی ہیں
ہے وہ ہے وہ ہے وہ دم دار کہتا ہوں مقطع سمجھتی ہیں

ہنر ہیں شاعری ہے وہ ہے وہ شعر کہتا ہوں
م
گر اس کا کو تو حقیقت ضائع سمجھتی ہیں

8

Download Image

کیوں آ جاتے ہوں سیدھے مقطعے پر
پہلے تھوڑا کام کروں مطلعے پر

4

Download Image

ہے وہ ہے وہ ہوں جاناں ہوں جاناں ہوں ہے وہ ہے وہ ہوں دنیا سے کیا ناتا ہے
گیت غزل کے ہر مقطعے ہے وہ ہے وہ نام تمہارا آتا ہے

3

Download Image

ایسے بھی لوگ ہیں ی
ہاں جو اپنے نام سے
محفل ہے وہ ہے وہ پڑھ کے آ گئے مقطع لذت صدخمار کا

2

Download Image

کوئی مجھ سا ثانی مل جائےگا جاناں کو
مقطع کہ کے پھروں ختم غزل کر دی ا
سے نے

2

Download Image

کبھی تہواروں کا بنکے کوئی ہفتہ چلی آنا
سفر ہوں ختم اندھیرا بنکے حقیقت رستہ چلی آنا

کئی برسوں سے ہوں ہے وہ ہے وہ چاہتا لکھنا غزل خود پہ
صنم کرنے مکمل بنکے جاناں مقطع چلی آنا

2

Download Image

پتا ہے سب تو اک تضمین مصرع ہے
غزل تو کہ دیا مقطع نہیں کہنا

1

Download Image

بن نہیں سکتا ہے وہ ہے وہ مقطع ا
سے غزل کا اب کبھی بھی
ا
سے لیے اشعار کہ کر ساتھ مقطع چھوڑ رکھا

1

Download Image

درد سے مجھ کو نکلنا بھی نہیں ہے
سچ ک
ہوں تو کوئی رستہ بھی نہیں ہے

زندگی ایسی غزل ہے دوست ج
سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ
شعر کم ہیں اور مقطع بھی نہیں ہے

1

Download Image

کتاب عشق ہے وہ ہے وہ ہر آہ ایک آیت ہے
پر آنسوؤں کو حروف مقطعات سمجھ

43

Download Image

مقطع غزل کا آخری شعر ہوتا ہے، جو اکثر شاعر کے تخلص کو سمیٹے ہوتا ہے۔ یہ ایک دستخط کے طور پر کام کرتا ہے، جو نظم کے جوہر کو سمیٹتا ہے۔ مقطع شاعر کے ذاتی غور و فکر کو ظاہر کر سکتا ہے یا پچھلے اشعار کو دوبارہ تعریف کرنے والا موڑ لا سکتا ہے۔

شاعر مقطع کا استعمال ایک دیرپا تاثر چھوڑنے کے لئے کرتے ہیں، اکثر ذاتی یا فلسفیانہ بصیرت کو سمیٹے ہوتے ہیں۔ یہ ایک نتیجہ یا انکشاف کے طور پر کام کر سکتا ہے، اختتام فراہم کرتا ہے یا نئی تشریحات کو کھولتا ہے۔

مقطع شاعر کا آخری لفظ ہوتا ہے، ایک خود شناسی کا لمحہ جو نظم سے پرے گونجتا ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں شاعر کی آواز ٹھہرتی ہے، غور و فکر کی دعوت دیتی ہے۔