Meaning of

مرو

marv • मर्व

مرو; قدیم زمانے کا ایک شہر

Marv; a city in ancient times

मर्व; प्राचीन काल का एक शहर

Persian

جیون کے دن چار ہی پھیر مرونہگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ
زبان چار ہی دن اور پیار کروں گا ہے وہ ہے وہ

12

Download Image

مت پوچھو کتنا غمگین ہوں گنگا جی اور جمنا جی
زیادہ جاناں کو یاد نہیں ہوں گنگا جی اور جمنا جی

امروہے ہے وہ ہے وہ بان ن
گرا کے پا
سے جو لڑکا رہتا تھا
اب حقیقت ک
ہاں ہے ہے وہ ہے وہ تو وہیں ہوں گنگا جی اور جمنا جی

96

Download Image

گزر چکی میسج شب ہجر پر بدن ہے وہ ہے وہ حقیقت تیرگی ہے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ جل مرونگا م
گر چراغوں کے لو کو مدھیم نہیں کروں گا

یہ عہد لے کر ہی تجھ کو سونپی تھی ہے وہ ہے وہ نے کلبو نظر کی سرحد
جو تری ہاتھوں سے قتل ہوگا ہے وہ ہے وہ ا
سے کا ماتم نہیں کروں گا

64

Download Image

کچی عمروں ہے وہ ہے وہ ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ کام پر لگا دیا گیا تو
ہم حقیقت بچے جو جوانی سے ا
پیش کر دیے گئے

58

Download Image

یہ کچھ آسان تو نہیں ہے کہ ہم
روٹھتے اب بھی ہیں مروت ہے وہ ہے وہ

58

Download Image

کچھ رشتوں ہے وہ ہے وہ دل کو آزا
گرا نہیں ہوتی
کچھ کمروں ہے وہ ہے وہ روشن دان نہیں ہوتا ہے

45

Download Image

ایک طرف ہے پوری دنیا ایک طرف ہے میرا گھر
لیکن جاناں کو بتلا دوں ہے وہ ہے وہ دنیا سے ہے اچھا گھر

سب کمروں کی دیواروں پر تصویریں ہیں ب
سے تیری
مجھ سے زیادہ تو لگتا ہے اندھیرا یہ تیرا گھر

38

Download Image

حسین یادوں کے چاند کو الوداع کہ کر
ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے گھر کے اندھیرے کمروں ہے وہ ہے وہ لوٹ آیا

29

Download Image

نظریں ہوں گڑیں جن کی وصیت پہ دنو رات
ماں باپ کہ عمروں کہ دعا خاک کریںگے

13

Download Image

بے مروت ہوں بےوفا ہوں جاناں
اپنے زار کے آشنا ہوں جاناں

12

Download Image

جیون کے دن چار ہی پھیر مرونہگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ
زبان چار ہی دن اور پیار کروں گا ہے وہ ہے وہ

12

Download Image

مت پوچھو کتنا غمگین ہوں گنگا جی اور جمنا جی
زیادہ جاناں کو یاد نہیں ہوں گنگا جی اور جمنا جی

امروہے ہے وہ ہے وہ بان ن
گرا کے پا
سے جو لڑکا رہتا تھا
اب حقیقت ک
ہاں ہے ہے وہ ہے وہ تو وہیں ہوں گنگا جی اور جمنا جی

96

Download Image

مرو، تاریخ میں ڈوبا ہوا ایک شہر، قدیم تہذیبوں اور وقت کے گزرنے کی تصاویر پیش کرتا ہے۔ شاعری میں، یہ انسانی کوششوں کی عظمت اور بالآخر زوال کی علامت ہے۔

شاعر اکثر مرو کا ذکر کرتے ہیں تاکہ جلال کی ناپائیداری پر غور کیا جا سکے۔ یہ کھوئی ہوئی عظمت اور وقت کے ناگزیر زوال کے لیے ایک استعارہ کے طور پر کام کرتا ہے۔

مرو عروج و زوال کے چکروں کا ثبوت ہے، انسانی کامیابیوں کی عارضی نوعیت کی یاد دہانی کراتا ہے۔