Meaning of

مصرعوں

misron • मिसरों

شعر کی سطریں; اشعار

verses; lines of poetry

कविता की पंक्तियाँ; शेर

Arabic

ا
سے دودمان کھا بیٹھی تنہائی جوانی یاں ہماری
صرف دو مصرعوں ہے وہ ہے وہ ہی سمٹی کہانی یاں ہماری

گل بھی مرجھا جاتے ہیں اب دیکھ کے چہرہ ہمارا
دیکھ ڈرتا تھا کبھی سا
گر روانی یاں ہماری

0

Download Image

ہم دونوں مصرعوں سے مل کر کے اک دم دار ہوں پاتا ہے
اک دوجے سے بچھڑیں گے تو بات ادھوری رہ جائے گی

6

Download Image

ادھورے شعر کے مصرعوں کو دیکھا تو
کسے کہتے ہیں تنہائی سمجھ آئی

5

Download Image

جی لگائی ہے ہے وہ ہے وہ نے یہ گن
گرا عادت ان سبھی کو
جو یہ مری دوست سب مصرعوں پہ مسری مارتے ہیں

4

Download Image

ہم نے تو ب
سے وزن گرایا ہے مصرعوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ
جاناں نے تو اپنا گاہے بھی گرا رکھا ہے

2

Download Image

کیسے محدود ہوں دو مصرعوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ
ایک مفل
سے کی زندگی کا دکھ

1

Download Image

چار مصرعوں سے کہو کندھے پہ اپنے
لے چلیں ہم کو سخن کی وادیوں ہے وہ ہے وہ

0

Download Image

ا
سے دودمان کھا بیٹھی تنہائی جوانی یاں ہماری
صرف دو مصرعوں ہے وہ ہے وہ ہی سمٹی کہانی یاں ہماری

0

Download Image

ا
سے دودمان کھا بیٹھی تنہائی جوانی یاں ہماری
صرف دو مصرعوں ہے وہ ہے وہ ہی سمٹی کہانی یاں ہماری

گل بھی مرجھا جاتے ہیں اب دیکھ کے چہرہ ہمارا
دیکھ ڈرتا تھا کبھی سا
گر روانی یاں ہماری

0

Download Image

ہم دونوں مصرعوں سے مل کر کے اک دم دار ہوں پاتا ہے
اک دوجے سے بچھڑیں گے تو بات ادھوری رہ جائے گی

6

Download Image

اصل میں 'مصرعوں' نظم کی ساختی سطروں کو ظاہر کرتا ہے، جن میں اپنی تال اور معنی ہوتے ہیں۔ شاعری میں، یہ سطریں جذبات اور خیالات کو ایک مربوط شکل میں بُنتی ہیں۔

شاعر 'مصرعوں' کا استعمال جذبات کی پیچیدہ بُنت بنانے کے لئے کرتے ہیں۔ ہر سطر ایک ستون کی طرح کھڑی ہوتی ہے، جو نظم کے موضوع کا بوجھ اٹھاتی ہے۔ 'مصرعوں' کے درمیان کا کھیل شاعر کے ارادے کی گونج پیدا کرتا ہے۔

شاعر کے ہاتھوں میں، 'مصرعوں' محض سطریں نہیں رہتیں؛ وہ نظم کی دھڑکن بن جاتی ہیں۔