Meaning of

مدت

muddat • मुद्दत

مدت; دورانیہ; عہد

period; duration; era

अवधि; काल; युग

Arabic

پرند شاخ پہ تنہا ادا
سے بیٹھا ہے
اڑان بھول گیا تو مدتوں کی بندش ہے وہ ہے وہ

47

Download Image

مدتوں بعد اک بے وجہ سے ملنے کے لیے
آئی
لگ دیکھا گیا تو بال سنواردے گئے

314

Download Image

مدتیں گزر گئی حساب نہیں کیا
لگ جانے اب ک
سے کے کتنے رہ گئے ہم

272

Download Image

ہوئی مدت کہ تاکتے مر گیا تو پر یاد آتا ہے
حقیقت ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا

149

Download Image

ہے وہ ہے وہ نے مدت سے کوئی خواب نہیں دیکھا ہے
ہاتھ رکھ دے مری آنکھوں پہ کہ نیند آ جائے

64

Download Image

مدت کے بعد خواب ہے وہ ہے وہ آیا تھا میرا باپ
اور ا
سے نے مجھ سے اتنا کہا خوش رہا کروں

62

Download Image

لاکھوں صدمے ڈھیر غم پھروں بھی نہیں ہیں آنکھیں نمہ
اک مدت سے روئے نہیں کیا پتھر کے ہوں گئے ہم

61

Download Image

چند مصروف نشاط کی چن کر مدتوں محو یا
سے رہتا ہوں
تیرا ملنا خوشی کی بات صحیح تجھ سے مل کر ادا
سے رہتا ہوں

49

Download Image

مدت کے بعد آج اسے دیکھ کر منیر
اک بار دل تو دھڑکا م
گر پھروں سنبھل گیا تو

48

Download Image

مدتوں بعد میسر ہوا ماں کا آنچل
مدتوں بعد ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ نیند سہانی آئی

47

Download Image

پرند شاخ پہ تنہا ادا
سے بیٹھا ہے
اڑان بھول گیا تو مدتوں کی بندش ہے وہ ہے وہ

47

Download Image

مدتوں بعد اک بے وجہ سے ملنے کے لیے
آئی
لگ دیکھا گیا تو بال سنواردے گئے

314

Download Image

مدت وقت کے گزرنے کا جوہر پیش کرتی ہے، ایک ایسا عرصہ جو عارضی لمحات اور دیرپا ادوار دونوں کو سمو سکتا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر انتظار کے بوجھ، زندگی کے سست انکشاف اور گزرے وقت کی یاد کے طور پر آتا ہے۔

شاعر 'مدت' کا استعمال طویل انتظار کے احساس یا گزرے ہوئے دور پر غور و فکر کے لیے کرتے ہیں۔ یہ محبت میں درکار صبر یا تبدیلی کی ناگزیریت کا اشارہ دے سکتا ہے۔ یہ لفظ فوری پن کے برعکس ہے، وقت کی سست رفتار کو اجاگر کرتا ہے۔

مدت ہمیں زندگی کے تانے بانے میں بنے صبر کی یاد دلاتی ہے۔ یہ وقت اور یادداشت کی پائیدار فطرت کی ایک نرم یاد دہانی ہے۔