Meaning of

مجرم

mujrim • मुजरिम

مجرم; خطاکار

criminal; offender

अपराधी; दोषी

Arabic

کوئی مجرم نہیں ہے ا
سے دفع یاں
خود اپنے آپ سے ناراض ہوں ہے وہ ہے وہ

0

Download Image

منصف ہوں ا
گر جاناں تو کب انصاف کروگے
مجرم ہیں ا
گر ہم تو سزا کیوں نہیں دیتے

27

Download Image

مجرم شہرت ہے وہ ہے وہ بھی کیف و نشاط کا عالم
وشق دہر ہے وہ ہے وہ وجہ سرور ہے کوئی

4

Download Image

آئینے کے دونوں طرف مجرم کھڑا ہے اور
لوگ ہیں کہ آئینے کو گنہگار بتاتے ہیں

2

Download Image

ہم کھڑے رہتے ہیں مجرم کی طرح محفل ہے وہ ہے وہ ہے وہ
ان کا انداز وکیلوں کی طرح ہوتا ہے

2

Download Image

ساتھ ا
سے کا چھوڑتا ہوں ہاتھ ایسے کانپتے ہے
جرم کرنے پر کوئی مجرم کے چنو کانپتے ہے

2

Download Image

یہ ک
سے نے جیل ہے وہ ہے وہ لایا خا
لگ ہاں یہ اللہ
مجرم کا بھی ہے کوئی دیوا
لگ ہاں یہ اللہ

2

Download Image

جاناں ہمارا گھر جلاتے جا رہے ہوں کچھ نہیں
ہم نے اپنا گھر بچایا اور مجرم ہوں گئے

2

Download Image

عشق کرنا اگر ظلم ہے تو سنو
ہم سے بڑھ کر یہاں کوئی مجرم نہیں

0

Download Image

تو تو اپنی شاطر آنکھوں کا مجرم ہے پیاری
پھروں بنت حوا پر کیوں الزام لگایا جائے

0

Download Image

کوئی مجرم نہیں ہے ا
سے دفع یاں
خود اپنے آپ سے ناراض ہوں ہے وہ ہے وہ

0

Download Image

منصف ہوں ا
گر جاناں تو کب انصاف کروگے
مجرم ہیں ا
گر ہم تو سزا کیوں نہیں دیتے

27

Download Image

مجرم لفظ جرم اور خطا کے بوجھ کو اٹھاتا ہے۔ یہ اس شخص کی تصویر کو بیدار کرتا ہے جس نے اخلاقی یا قانونی حدود کو عبور کیا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر ایک روح کے اندرونی تنازعہ کی علامت ہوتا ہے جو اپنے اعمال سے بوجھل ہوتی ہے، نجات یا سمجھ کی تلاش کرتی ہے۔

شاعر 'مجرم' کا استعمال جرم اور نجات کے موضوعات کی تلاش کے لیے کرتے ہیں۔ یہ محبت کی عدالت میں عاشق کو مجرم کے طور پر پیش کر سکتا ہے، یا معاشرتی فیصلے کو ظاہر کر سکتا ہے۔ یہ لفظ اکثر معصومیت کے برعکس ہوتا ہے، جو انسانی اخلاقیات کی پیچیدگی کو اجاگر کرتا ہے۔

مجرم انسانی ضمیر کے سائے دار راستوں کی عکاسی کرتا ہے، جہاں جرم اور نجات ابدی تنازعہ میں رقص کرتے ہیں۔