Meaning of

نقاب

naqaab • नक़ाब

نقاب; بھیس

veil; disguise

घूंघट; भेस

Arabic

خاک بستیوں ہے وہ ہے وہ گھر ریت کے بناؤگے
روز روز ایسے ہی خوب چوٹ سر و سامان حیات

سوچتے تو ہیں ہم بھی چھت سے کود جائیں اب
پھروں خیال آتا ہے جاناں کہاں پہ جاؤگے

جو ہمارے ہوں کر بھی ہر کسی کو دیکھوگے
بے وفا کی گنتی ہے وہ ہے وہ یار آ ہی جاؤگے

بے نقاب ہوکر کے ہم نکل تو آئیں گے
ہوں گیا تو کہیں کچھ بھی ہمپے ٹن ٹناؤگے

شب کے آٹھ بجتے ہی جاناں کہاں پہ جاتے ہوں
کوئی پوچھ بیٹھا پھروں بولو کیا بتاوگے

جب رقیب بنکر ہی کچھ نہیں ہوا جاناں سے
جاناں حبیب بنکر کیا بستیاں جلاؤگے

جب نظر جھکاؤگے بات بن ہی جائے گی
پیار سے جو بولیں گے جاناں بھی مان جاؤگے
عشق کا محبت کا جب بخار آئےگا
وقت پر دوا لینا خود ہی بھول جاؤگے

جب کبھی بھی تنہائی نوچ کر کے نو زائیدہ
میرا نام لکھ کر جاناں ہاتھ پر مٹاوگے

داستان محبت کی ایک بار سن لوگے
میرا نام گیتوں ہے وہ ہے وہ جاناں بھی گنگناؤگے

5

Download Image

ا
سے دور ہے وہ ہے وہ انسان کا چہرہ نہیں ملتا
کب سے ہے وہ ہے وہ نقابوں کی تہیں کھول رہا ہوں

53

Download Image

ایک چہرے سے اترتی ہیں نقابیں کتنی
لوگ کتنے ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک بے وجہ ہے وہ ہے وہ مل جاتے ہیں

39

Download Image

اتنی جل
گرا لگ گرا اپنے حسین رکھ پہ نقاب
تو مجھے ٹھیک سے حیران تو ہوں لینے دے

38

Download Image

مجھ کو یہ آرزو حقیقت اٹھائیں نقاب خود
ان کو یہ انتظار تقاضا کرے کوئی

34

Download Image

حقیقت اپنے چہرے ہے وہ ہے وہ سو آفتاب رکھتے ہیں
اسی
لیے تو حقیقت رکھ پہ نقاب رکھتے ہیں

30

Download Image

تصور ہے وہ ہے وہ بھی اب حقیقت بے نقاب آتے نہیں مجھ تک
خوشگوار آ چکی ہے لوگ کہتے ہیں شباب آیا

25

Download Image

ہے دیکھنے والوں کو سنبھلنے کا اشارہ
تھوڑی سی نقاب آج حقیقت سرکائے ہوئے ہیں

25

Download Image

منا پر نقاب زرد ہر اک زلف پر گلال
ہولی کی شام ہی تو سحر ہے بسنّت کی

23

Download Image

ا
سے کے پردے کی عصمت کیسی ہے جاناں
آنکھوں سے تو نقاب ا
سے نے ہٹا رکھا ہے

10

Download Image

خاک بستیوں ہے وہ ہے وہ گھر ریت کے بناؤگے
روز روز ایسے ہی خوب چوٹ سر و سامان حیات

سوچتے تو ہیں ہم بھی چھت سے کود جائیں اب
پھروں خیال آتا ہے جاناں کہاں پہ جاؤگے

جو ہمارے ہوں کر بھی ہر کسی کو دیکھوگے
بے وفا کی گنتی ہے وہ ہے وہ یار آ ہی جاؤگے

بے نقاب ہوکر کے ہم نکل تو آئیں گے
ہوں گیا تو کہیں کچھ بھی ہمپے ٹن ٹناؤگے

شب کے آٹھ بجتے ہی جاناں کہاں پہ جاتے ہوں
کوئی پوچھ بیٹھا پھروں بولو کیا بتاوگے

جب رقیب بنکر ہی کچھ نہیں ہوا جاناں سے
جاناں حبیب بنکر کیا بستیاں جلاؤگے

جب نظر جھکاؤگے بات بن ہی جائے گی
پیار سے جو بولیں گے جاناں بھی مان جاؤگے
عشق کا محبت کا جب بخار آئےگا
وقت پر دوا لینا خود ہی بھول جاؤگے

جب کبھی بھی تنہائی نوچ کر کے نو زائیدہ
میرا نام لکھ کر جاناں ہاتھ پر مٹاوگے

داستان محبت کی ایک بار سن لوگے
میرا نام گیتوں ہے وہ ہے وہ جاناں بھی گنگناؤگے

5

Download Image

ا
سے دور ہے وہ ہے وہ انسان کا چہرہ نہیں ملتا
کب سے ہے وہ ہے وہ نقابوں کی تہیں کھول رہا ہوں

53

Download Image

نقاب چھپانے کا اشارہ دیتا ہے، دیکھے اور ان دیکھے کے درمیان کی رکاوٹ۔ شاعری میں، یہ اکثر راز، روح کی چھپی گہرائی، یا افراد اور ان کی حقیقی ذات کے درمیان کی رکاوٹوں کی علامت ہوتا ہے۔

شاعر 'نقاب' کا استعمال راز اور انکشاف کے موضوعات کی تلاش کے لیے کرتے ہیں۔ یہ معاشرے میں لوگ جو ماسک پہنتے ہیں یا سطح کے نیچے چھپے سچائیوں کی نمائندگی کر سکتا ہے۔

نقاب شناخت کی تہوں اور ان رازوں پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے جنہیں ہم چھپانا پسند کرتے ہیں۔