Meaning of

نشہ

nashsha • नश्शा

نشہ; سرور

intoxication; euphoria

मदहोशी; उल्लास

Arabic

تمہارا پیار تو سانسوں ہے وہ ہے وہ سان
سے لیتا ہے
جو ہوتا نشہ تو اک دن اتر نہیں جاتا

24

Download Image

یہ جو ہے وہ ہے وہ ہوش ہے وہ ہے وہ رہتا نہیں جاناں سے مل کر
یہ میرا عشق ہے جاناں اس کا کو نشہ مت سمجھو

87

Download Image

مجھے شراب پلائی گئی ہے آنکھوں سے
میرا نشہ تو ہزاروں بر
سے ہے وہ ہے وہ اترےگا

49

Download Image

گلاب نشہ محبت پہ وار آئی ہم
تمہارے ہونٹوں کا صدقہ اتار آئی ہم

49

Download Image

یہ کیسا نشہ ہے ہے وہ ہے وہ ک
سے غضب خمار ہے وہ ہے وہ ہوں
تو آ کے جا بھی چکا ہے ہے وہ ہے وہ انتظار ہے وہ ہے وہ ہوں

43

Download Image

نشہ پلا کے گرانا تو سب کو آتا ہے
مزہ تو تب ہے کہ گرتوں کو تھام لے ساقی

42

Download Image

بھائی ہن
گرا کی محبت کا نشہ مت پوچھیے
بے تکلف ہوں گئے تو گدگ
گرا تک آ گئے

32

Download Image

نشہ بے باکی مستان نم دامان عصیاں
عاریت ہے تراوت کھیچی کی

32

Download Image

حقیقت نشہ ہے کے زبان عقل سے کرتی ہے فریب
تو مری بات کے مفہوم پہ جاتا ہے ک
ہاں

26

Download Image

قاصر بھی غم یار ہے وہ ہے وہ شامل کر لو
نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں ہے وہ ہے وہ ملیں

24

Download Image

تمہارا پیار تو سانسوں ہے وہ ہے وہ سان
سے لیتا ہے
جو ہوتا نشہ تو اک دن اتر نہیں جاتا

24

Download Image

یہ جو ہے وہ ہے وہ ہوش ہے وہ ہے وہ رہتا نہیں جاناں سے مل کر
یہ میرا عشق ہے جاناں اس کا کو نشہ مت سمجھو

87

Download Image

نشہ اصل میں نشہ آور چیزوں یا جذبات سے پیدا ہونے والی مدہوشی کی حالت کو بیان کرتا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر اس زبردست خوشی یا سرور کی علامت ہوتا ہے جو عام تجربے سے ماورا ہوتا ہے، خوشگوار خودسپردگی کے لمحات کو پکڑتا ہے۔

شاعر 'نشہ' کا استعمال بلند جذباتی حالتوں کو بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ محبت کے سرور، دریافت کی سنسنی، یا روحانی بیداری کے سرور کو بیان کر سکتا ہے۔ یہ ہوش کے برعکس ہے، ماورائیت کی کشش کو اجاگر کرتا ہے۔

شاعری میں، 'نشہ' قارئین کو سرور کی حدود کو دریافت کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ یہ ان لمحات کا جشن ہے جہاں حقیقت خواب میں دھندلا جاتی ہے۔