Meaning of

پر یقین

pur-yaqeen • पुर-यक़ीन

یقین سے بھرپور; مطمئن

full of certainty; assured

पूर्ण विश्वास से भरा; आश्वस्त

Persian

ملا ہوں آج جاناں سے پر یقین مانو
کئی سالو سے جاناں کو جانتا ہوں ہے وہ ہے وہ

0

Download Image

چمچماتی کار ہے وہ ہے وہ اس کا کی بدائی ہو گئی
پر یقین آتا نہیں ہے بےوفائی ہو گئی

آخری چوٹی سے گرکر ہم مرے ہیں عشق کی
ہم سمجھتے تھے ہمالیہ کی چڑھائی ہو گئی

54

Download Image

دور روشنی ہوئی نصیب تھے ڈھلے ہوئے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کی دعا م
گر قبول فاصلے ہوئے

بات پر یقین نہیں تو نین دیکھ لے مری
انتظار کے دیے تری لیے جلے ہوئے

32

Download Image

اب مجھے ا
سے پر یقین اتنا رہا ہے
پانی تپتی ریت ہے وہ ہے وہ جتنا رہا ہے

9

Download Image

گیا تو ہے ہوں بہو ا
سے پر یقیناً
بڑا والا میرا لڑکا سہیلی

4

Download Image

تمہیں ہی جب نہیں مجھ پر یقین تو پھروں
بھلا کیوں خود پر اب ایمان لاؤں ہے وہ ہے وہ

2

Download Image

ہوتا ہے کیا غضب کا اسی بے وجہ پر یقین
جو بے وجہ ایک دن کہی لٹوائے آپ کو

1

Download Image

عزت سے جب بھی مجھ کو پکارا نہیں گیا تو
ہے وہ ہے وہ ہے وہ ذات در ذات ا
سے گلی ہے وہ ہے وہ دوبارہ نہیں گیا تو

ا
سے سے کہا تھا خوف ہے وہ ہے وہ مجھ پر یقین کر
پھروں مجھ سے ا
سے کا خوف اتارا نہیں گیا تو

1

Download Image

تری فراق ہے وہ ہے وہ بھی عشق پر یقین دیکھ کر
بہت ادا
سے ہیں مجھے تماشبین دیکھ کر

جو زندگی گزارنہ تھی ساتھ ہے وہ ہے وہ تری کبھی
گزارتا ہوں اب ترا ہے وہ ہے وہ لاسٹ سین دیکھ کر

1

Download Image

کلایوگی دنیا ہے وہ ہے وہ وعدہ اب نبھاتا کون ہے
عشق ہے وہ ہے وہ پھروں بھی کیا تھا ا
سے کے وعدوں پر یقین

0

Download Image

ملا ہوں آج جاناں سے پر یقین مانو
کئی سالو سے جاناں کو جانتا ہوں ہے وہ ہے وہ

0

Download Image

چمچماتی کار ہے وہ ہے وہ اس کا کی بدائی ہو گئی
پر یقین آتا نہیں ہے بےوفائی ہو گئی

آخری چوٹی سے گرکر ہم مرے ہیں عشق کی
ہم سمجھتے تھے ہمالیہ کی چڑھائی ہو گئی

54

Download Image

لفظ 'پر یقین' ایک غیر متزلزل اعتماد اور یقین کی کیفیت کو بیدار کرتا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر ایک ایسی ذہنی حالت کی علامت ہوتا ہے جہاں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی اور ایمان مکمل ہوتا ہے۔

شاعر 'پر یقین' کا استعمال ایمان اور یقین کے موضوعات کو بیان کرنے کے لئے کرتے ہیں۔ یہ شک اور ہچکچاہٹ کے برعکس ہوتا ہے، اکثر کسی کردار کی اندرونی طاقت یا روحانی عزم کو نمایاں کرتا ہے۔

شاعری کی دنیا میں، 'پر یقین' اندرونی طاقت اور غیر متزلزل ایمان کی علامت ہے۔