Meaning of

قاب

qaab • क़ाब

تھالی; پرات; ظرف

dish; platter; container

थाली; परात; पात्र

Arabic

ا
گر لگتا ہے حقیقت قابل نہیں ہے
تو رشتہ توڑنا مشکل نہیں ہے

رقیب آیا ہے مری شعر سننے
تو اب یہ جنگ ہے محفل نہیں ہے

35

Download Image

مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ
تو میرا شوق دیکھ میرا انتظار دیکھ

297

Download Image

اب دوست کوئی لاؤ مقابل ہے وہ ہے وہ ہمارے
دشمن تو کوئی قد کے برابر نہیں نکلا

117

Download Image

اپنے دل ہے وہ ہے وہ تقاضا ہم کو
اور گلے سے لگاوگے ہم کو

ہم نہیں اتنے پیار کے قابل
جاناں تو پاگل بناؤگے ہم کو

106

Download Image

ا
سے دور ہے وہ ہے وہ انسان کا چہرہ نہیں ملتا
کب سے ہے وہ ہے وہ نقابوں کی تہیں کھول رہا ہوں

53

Download Image

ا
سے کے بدن کو دی نمود ہم نے سخن ہے وہ ہے وہ اور پھروں
ا
سے کے بدن کے واسطے اک قبا بھی سی گئی

49

Download Image

کون سود و زیاں کی دنیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ
درد غربت کا ساتھ دیتا ہے

جب مقابل ہوں عشق اور دولت
حسن دولت کا ساتھ دیتا ہے

40

Download Image

ایک چہرے سے اترتی ہیں نقابیں کتنی
لوگ کتنے ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک بے وجہ ہے وہ ہے وہ مل جاتے ہیں

39

Download Image

اتنی جل
گرا لگ گرا اپنے حسین رکھ پہ نقاب
تو مجھے ٹھیک سے حیران تو ہوں لینے دے

38

Download Image

اب تو بیمار محبت تری
قابل غور ہوئے جاتے ہیں

37

Download Image

ا
گر لگتا ہے حقیقت قابل نہیں ہے
تو رشتہ توڑنا مشکل نہیں ہے

رقیب آیا ہے مری شعر سننے
تو اب یہ جنگ ہے محفل نہیں ہے

35

Download Image

مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ
تو میرا شوق دیکھ میرا انتظار دیکھ

297

Download Image

اپنے اصل معنی میں، 'قاب' ایک سادہ ظرف یا تھالی کی طرف اشارہ کرتا ہے، جو افادیت اور مقصد کا برتن ہے۔ شاعری میں، یہ ایک علامت بن جاتا ہے سمونے اور پیش کرنے کا، جس میں وہ جوہر ہوتا ہے جو بانٹا یا حاصل کیا جانا ہے۔ 'قاب' کی تصویر جسمانی اور روحانی دونوں طرح کی غذائیت کے خیالات کو بیدار کرتی ہے، اور دینے اور لینے کے عمل کو۔

شاعر اکثر 'قاب' کا استعمال دل کو جذبات کے ظرف کے طور پر کرتے ہیں۔ یہ روح کی محبت یا غم کو سمونے کی صلاحیت کی نمائندگی کر سکتا ہے۔ یہ لفظ خالی پن کے برعکس ہے، بھرپوریت اور فراوانی کا اشارہ دیتا ہے۔

'قاب' اپنی شاعرانہ جوہر میں ہمیں یہ سوچنے کی دعوت دیتا ہے کہ ہم کیا تھامنا چاہتے ہیں اور کیا چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ دل کی بے پایاں صلاحیت کی یاد دلاتا ہے۔