Meaning of
قابل نہ تسخیر
qaabil-e-taskheer • क़ाबिल-ए-तस्ख़ीर
Urdu
فتح کے قابل; قابل تسخیر
English
capable of conquest; conquerable
Hindi
विजय के योग्य; जीता जा सकने वाला
Origin
Arabic
Nuance
یہ فقرہ کسی ایسی چیز یا شخص کا تصور پیدا کرتا ہے جسے فتح کیا جا سکتا ہے، اکثر محبت یا خواہش کے سیاق و سباق میں۔ شاعری میں، یہ ایک چیلنج کی کشش کو ظاہر کرتا ہے جو تعاقب کی دعوت دیتا ہے۔
Poetic Usage
شاعر اکثر اس فقرے کا استعمال محبوب کو ایک قلعے کے طور پر بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں جسے فتح کرنا ہے۔ یہ ایسی خواہشات یا خوابوں کو بھی ظاہر کر سکتا ہے جو پہنچ کے قریب لگتے ہیں لیکن کوشش اور عزم کی ضرورت ہوتی ہے۔
Closing Insight
شاعری کی دنیا میں، 'قابل نہ تسخیر' ناقابل حصول کی تلاش کے لیے ایک استعارہ بن جاتا ہے۔