Meaning of

ران

raan • रान

ران; ٹانگ

thigh; leg

जांघ; पैर

Persian

تیرا چہرہ کتنا سہانا لگتا ہے
تری آگے چاند پرانا لگتا ہے

70

Download Image

ا
گر جاناں ہوں تو گھبرانے کی کوئی بات تھوڑی ہے
ذرا سی بوندابان
گرا ہے بے حد برسات تھوڑی ہے

یہ راہ عشق ہے ا
سے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ قدم ایسے ہی اٹھتے ہیں
محبت اڑانی والوں کے ب
سے کی بات تھوڑی ہے

221

Download Image

کچھ لگ رہ سکا ج
ہاں ویرانیاں تو رہ گئیں
جاناں چلے گئے تو کیا اندھیرا تو رہ گئیں

167

Download Image

دھوپ پڑے ا
سے پر تو جاناں بادل بن جانا
اب حقیقت ملنے آئی تو اس کا کو گھر ٹھہرانا

جاناں کو دور سے دیکھتے دیکھتے گزر رہی ہے
مر جانا پر کسی غریب کے کام لگ آنا

122

Download Image

یار بچھڑ کر جاناں نے ہنستا آپ ہے وہ ہے وہ گھر ویران کیا
مجھ کو بھی آباد لگ رکھا اپنا بھی نقصان کیا

122

Download Image

یہ ک
سے نے باغ سے ا
سے بے وجہ کو بلا لیا ہے
پرند اڑ گئے پیڑوں نے منا بنا لیا ہے

اسے پتا تھا ہے وہ ہے وہ چھونے ہے وہ ہے وہ سمے لیتا ہوں
سو ا
سے نے وصل کا دورانیا بڑھا لیا ہے

110

Download Image

سادہ ہوں اور برانڈز پسند نہیں مجھ کو
مجھ پر اپنے پیسے ضائع مت کرنا

100

Download Image

کبوتر عشق کا اترے تو کیسے
تمہاری چھت پہ نگرانی بے حد ہے

ارادہ کر لیا گر خود کشی کا
تو خود کی آنکھ کا پانی بے حد ہے

93

Download Image

نئی فصلوں کو یہ کچھ اور سے کچھ اور کرتے ہیں
گلابوں کی جو خوشبو ڈھونڈھتے ہیں رات رانی ہے وہ ہے وہ

83

Download Image

نظر آئی لگ تو جن کو پریشانی سے مرتے ہیں
جو تجھ کو دیکھ لیتے ہیں حقیقت حیرانی سے مرتے ہیں

82

Download Image

تیرا چہرہ کتنا سہانا لگتا ہے
تری آگے چاند پرانا لگتا ہے

70

Download Image

ا
گر جاناں ہوں تو گھبرانے کی کوئی بات تھوڑی ہے
ذرا سی بوندابان
گرا ہے بے حد برسات تھوڑی ہے

یہ راہ عشق ہے ا
سے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ قدم ایسے ہی اٹھتے ہیں
محبت اڑانی والوں کے ب
سے کی بات تھوڑی ہے

221

Download Image

ران کا لفظ انسانی جسم کی طاقت اور خوبصورتی کو ظاہر کرتا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر بنیاد اور حمایت کی علامت ہوتا ہے، جسم کا وہ حصہ جو وزن اٹھاتا ہے لیکن کپڑوں اور شرافت کی تہوں کے نیچے چھپا رہتا ہے۔

شاعر 'ران' کا استعمال طاقت اور نرمی کے موضوعات کو بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ خوبصورتی اور برداشت کے چھپے ہوئے پہلوؤں کی نمائندگی کر سکتا ہے۔ اکثر جسم کے زیادہ نظر آنے والے حصوں کے ساتھ تضاد میں، یہ پوشیدہ طاقت کو اجاگر کرتا ہے۔

ران کی خاموش طاقت میں، شاعر برداشت کے لیے ایک استعارہ پاتے ہیں۔ یہ اندرونی چھپی ہوئی طاقت کی بات کرتا ہے۔