Meaning of

رانجھا

raanjha • राँझा

نام; عاشق; وفاداری کی علامت

name; lover; symbol of devotion

नाम; प्रेमी; समर्पण का प्रतीक

Punjabi

گر نہیں دیکھا ہے تو نے ہیر رانجھے
دیکھ تیری مری یہ تصویر رانجھے

مری ہاتھوں ہے وہ ہے وہ نہیں ہے ہاتھ تیرا
مری ہاتھوں ہے وہ ہے وہ ہے اک شمشیر رانجھے

1

Download Image

حقیقت چاہے مجنوں ہوں فرہاد ہوں کہ رانجھے ہوں
ہر ایک بے وجہ میرا ہم سبق نکلتا ہے

29

Download Image

اس کا کو رانجھے مت کہو جو نا ہوا مختلف
جو نا جوگن ہوں سکی سو کاہے کی ہیر

27

Download Image

ہے حقیقت ب
سے یہی جاناں جان لو
ہے وہ ہے وہ ہے وہ فقط جاناں پہ ہوں مرتا مان لو

ج
سے طرح رانجھے فدا تھا ہیر پر
ہوں وہی عاشق مجھے پہچان لو

3

Download Image

جو دھوکہ مل گیا تو ہوں تو محبت تیر لگتی ہے
ملی جو نئیں وفا ہم کو تو یہ تقدیر لگتی ہے

کہ رانی ہے کسی کی حقیقت کہانی تھی کسی کی حقیقت
ہے وہ ہے وہ ہے وہ رانجھے بن نہیں پایا م
گر حقیقت ہیر لگتی ہے

3

Download Image

کبھی مجنوں سمجھتی ہے کبھی رانجھے سمجھتی ہے
یہ دنیا عاشقوں کو کب بھلا اپنا سمجھتی ہے

2

Download Image

جان من تجھ سے محبت ہے محبت کی قسم
رانجھے و قی
سے کی فرہاد کی چاہت کی قسم

خود سے بڑھکر تجھے چاہا تھا تجھے چاہوںگا
اے مری جان تیری عزت و عظمت کی قسم

2

Download Image

آتش عشق ہے وہ ہے وہ جب قلب شجر جلنے لگا
ہر کوئی اہل نظر دست ادب ملنے لگا

مقصد حضرت رانجھے کی حفاظت کے لیے
راہ الفت پہ ہے وہ ہے وہ بے خوف و خطر چلنے لگا

2

Download Image

فرہاد قی
سے رانجھے سا
گر
سب کو الفت نے مارا ہے

1

Download Image

بات اب تیر کی طرح ہوں گی
شاعری میر کی طرح ہوں گی

ہے فسا
لگ وقار کا رانجھے سا
داستان ہیر کی طرح ہوں گی

1

Download Image

گر نہیں دیکھا ہے تو نے ہیر رانجھے
دیکھ تیری مری یہ تصویر رانجھے

مری ہاتھوں ہے وہ ہے وہ نہیں ہے ہاتھ تیرا
مری ہاتھوں ہے وہ ہے وہ ہے اک شمشیر رانجھے

1

Download Image

حقیقت چاہے مجنوں ہوں فرہاد ہوں کہ رانجھے ہوں
ہر ایک بے وجہ میرا ہم سبق نکلتا ہے

29

Download Image

رانجھا صرف ایک نام نہیں ہے؛ یہ غیر متزلزل وفاداری اور محبت کی علامت ہے۔ شاعری میں، یہ اس عاشق کی نمائندگی کرتا ہے جو محبت کی خاطر تمام مشکلات کو برداشت کرنے کے لیے تیار ہے، قربانی اور وفاداری کی روح کو سمیٹے ہوئے۔

رانجھا کا استعمال اکثر وفاداری اور قربانی کے موضوعات کی تلاش کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس کا استعمال محبت کی آزمائشوں اور غیر متزلزل عزم میں پائی جانے والی طاقت کو ظاہر کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ شاعر ہیر کے ساتھ رانجھا کا موازنہ کرتے ہیں تاکہ محبت اور وفاداری کی حرکیات کو اجاگر کیا جا سکے۔

رانجھا محبت کی آزمائشوں اور کامیابیوں کا جوہر سمیٹے ہوئے ہے، وفاداری کی دائمی روح کا ثبوت ہے۔