Meaning of

رسا

rasaa • रसा

فصیح; روان

eloquent; flowing

प्रभावशाली; प्रवाहपूर्ण

Persian

خلاف شرط انا تھا حقیقت خواب ہے وہ ہے وہ بھی ملے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ نیند نیند کو دراڑیں م
گر نہیں سویا

خلاف موسم دل تھا کہ تھم گئی بارش
خلاف غربت غم ہے کہ ہے وہ ہے وہ نہیں رویا

52

Download Image

ا
گر جاناں ہوں تو گھبرانے کی کوئی بات تھوڑی ہے
ذرا سی بوندابان
گرا ہے بے حد برسات تھوڑی ہے

یہ راہ عشق ہے ا
سے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ قدم ایسے ہی اٹھتے ہیں
محبت اڑانی والوں کے ب
سے کی بات تھوڑی ہے

221

Download Image

مہرباں ہم پہ ہر اک رات ہوا کرتی تھی
آنکھ لگتے ہی ملاقات ہوا کرتی تھی

ہجر کی رات ہے اور آنکھ ہے وہ ہے وہ آنسو بھی نہیں
ایسے موسم ہے وہ ہے وہ تو برسات ہوا کرتی تھی

140

Download Image

خوشبو کی برسات نہیں کر پاتے ہیں
ہم خود ہی شروعات نہیں کر پاتے ہیں

ج
سے لڑکی کی باتیں کرتے ہیں سب سے
ا
سے لڑکی سے بات نہیں کر پاتے ہیں

83

Download Image

دن ہے وہ ہے وہ مل لیتے کہی رات ضروری تھی کیا
بےنتیجہ یہ ملاقات ضروری تھی کیا

مجھ سے کہتے تو ہے وہ ہے وہ آنکھوں ہے وہ ہے وہ بلا لیتا تمہیں
بھیگنے کے لیے برسات ضروری تھی کیا

83

Download Image

یہ علم کا سودا یہ رسالے یہ کتابیں
اک بے وجہ کی یادوں کو بھلانے کے لیے ہیں

67

Download Image

زیادتی ہر بات کی ہر چیز کی اچھی نہیں
ڈوبتے شہروں ہے وہ ہے وہ کچھ برسات رکھ کر دیکھیے

62

Download Image

کتابیں رسالے لگ ذائقہ پڑھنا
م
گر دل کو ہر رات اک بار پڑھنا

56

Download Image

دھوپ ہے وہ ہے وہ کون کسے یاد کیا کرتا ہے
پر تری شہر ہے وہ ہے وہ برسات تو ہوتی ہوں گی

53

Download Image

تمہارے پا
سے آتے ہیں تو سانسیں بھیگ جاتی ہیں
محبت اتنی ملتی ہے کہ آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

تبسم عطر جیسا ہے ہنسی برسات جیسی ہے
حقیقت جب بھی بات کرتی ہے تو باتیں بھیگ جاتی ہیں

52

Download Image

خلاف شرط انا تھا حقیقت خواب ہے وہ ہے وہ بھی ملے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ نیند نیند کو دراڑیں م
گر نہیں سویا

خلاف موسم دل تھا کہ تھم گئی بارش
خلاف غربت غم ہے کہ ہے وہ ہے وہ نہیں رویا

52

Download Image

ا
گر جاناں ہوں تو گھبرانے کی کوئی بات تھوڑی ہے
ذرا سی بوندابان
گرا ہے بے حد برسات تھوڑی ہے

یہ راہ عشق ہے ا
سے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ قدم ایسے ہی اٹھتے ہیں
محبت اڑانی والوں کے ب
سے کی بات تھوڑی ہے

221

Download Image

یہ لفظ تقریر یا خیال کے ہموار، خوبصورت بہاؤ کا اشارہ دیتا ہے۔ شاعری میں، یہ اکثر زبان کی خوبصورتی کو ظاہر کرتا ہے جو بلا رکاوٹ چلتی ہے، سامع کے دل کو پکڑ لیتی ہے۔

شاعرانہ اظہار کی روانی اور خوبصورتی کو بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اکثر ایک خوبصورت بولے گئے شعر کے دلکشی سے منسلک ہوتا ہے۔ قدرت یا جذبات کی بلا رکاوٹ خوبصورتی کا بھی اشارہ دے سکتا ہے۔

شاعری میں فصاحت الفاظ کا خاموش رقص ہے، جہاں ہر سطر ایک نرم دھارے کی طرح بہتی ہے۔