Meaning of

رشک

rashke • रश्के

حسد; رشک

envy; jealousy

ईर्ष्या; जलन

Arabic

فرت خوشی سے اپنی جو بھی رشک کرتے ہیں
ان کو تری بنائی حقیقت جنت طلب نہیں

2

Download Image

کوئے بتاں کے بوسے لوں گا رکھ رشک ماہ کا
چندا وصول ہوتا ہے صاحب دباو سے

40

Download Image

مری رشک قمر تو نے پہلی نظر جب نظر سے ملائی مزہ آ گیا تو
برق سی گر گئی کام ہی کر گئی آگ ایسی لگائی مزہ آ گیا تو

39

Download Image

شاید آ جائے کبھی دیکھنے حقیقت رشک مسیح
ہے وہ ہے وہ ہے وہ کسی اور سے ا
سے واسطے اچھا لگ ہوا

23

Download Image

اس کا چاند کو بھی رشک ہوتا تھا اسی کو دیکھ کر
ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی کھلے آکاش ہے وہ ہے وہ تصویر اس کا کی چومتا

5

Download Image

رشک اپنے ہی سخن سے کیوں نہیں ہوگا مجھے
حقیقت محبت مجھ سے نہیں مری سخن سے کر رہی

5

Download Image

رشک ہوتا ہے آہ و نالہ ہیں گال
تری بالیاں رقیب ہیں مری

4

Download Image

تمہارے کان کے بالیاں سے مجھ کو رشک ایسے ہے
کبھی گردن کو چھوتا ہے کبھی گالوں کو چومے ہے

4

Download Image

ہے مجھ کو رشک تیری پاؤں کی پائل سے اتنا یوں
لپٹ کر پاؤں سے تری یہ اتنا من اندھیرا کیوں ہے

4

Download Image

اب اکیلا گھر ہی مجھ کو پیار کرتا ہے
کوئی آئی رشک ہے وہ ہے وہ تکرار کرتا ہے

3

Download Image

فرت خوشی سے اپنی جو بھی رشک کرتے ہیں
ان کو تری بنائی حقیقت جنت طلب نہیں

2

Download Image

کوئے بتاں کے بوسے لوں گا رکھ رشک ماہ کا
چندا وصول ہوتا ہے صاحب دباو سے

40

Download Image

رشک ایک پیچیدہ جذبات ہے، جو حسد کے ساتھ ساتھ تعریف بھی شامل کرتا ہے۔ شاعری میں، یہ محض حسد نہیں ہے، بلکہ کسی اور کے پاس جو کچھ ہے، اس کی خواہش کو ظاہر کرتا ہے، چاہے وہ خوبصورتی ہو، صلاحیت ہو، یا محبت۔

شاعر اکثر رشک کا استعمال تعریف اور حسد کے درمیان کشیدگی کو دریافت کرنے کے لئے کرتے ہیں۔ یہ غیر حاصل شدہ محبت کی مٹھاس اور تلخی یا کسی اور کی خوشی کے لئے خاموش خواہش کو ظاہر کر سکتا ہے۔

رشک انسانی جذبات کی دوگانگی کا آئینہ ہے۔ یہ ہمیں تعریف اور حسد کے درمیان باریک لکیر کی یاد دلاتا ہے۔