Meaning of

رز

raz • रज़

راز; پوشیدہ

secret; mystery

रहस्य; गुप्त

Persian

ہے وہ ہے وہ سو رہا ہوں تری خواب دیکھنے کے لیے
یہ آرزو ہے کہ آنکھوں ہے وہ ہے وہ رات رہ جائے

61

Download Image

خو
گرا کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

473

Download Image

راتیں کسی یاد ہے وہ ہے وہ کٹتی ہیں اور دن دفترون کھا جاتا ہے
دل جینے پر مائل ہوتا ہے تو موت کا ڈر کھا جاتا ہے

سچ پوچھو تو برزخ حافی ہے وہ ہے وہ ایسے دوست سے عزیز ہوں
ملتا ہے تو بات نہیں کرتا اور فون پہ سر کھا جاتا ہے

307

Download Image

ا
سے کی زلفیں ادا
سے ہوں جائے
ا
سے دودمان روشنی بھی ٹھیک نہیں

جاناں نے ناراض ہونا چھوڑ دیا
اتنی ناراضگی بھی ٹھیک نہیں

128

Download Image

اول تو ہے وہ ہے وہ ناراض نہیں ہوتا ہوں لیکن
ہوں جاؤں تو پھروں مجھسا برا ہوتا نہیں ہے

101

Download Image

ایسی سر
گرا ہے کہ سورج بھی دہائی مانگے
جو ہوں پردی
سے ہے وہ ہے وہ حقیقت کس سے رضائی مانگے

76

Download Image

اے غم زندگی لگ ہوں ناراض
مجھ کو عادت ہے مسکرانے کی

69

Download Image

کسی بہانے سے ا
سے کی ناراضگی ختم تو کرنی تھی
ا
سے کے پسندیدہ شاعر کے شعر اسے بھیجوائے ہیں

67

Download Image

تمہاری یاد ہے وہ ہے وہ جینے کی آرزو ہے ابھی
کچھ اپنا حال بے زار ا
گر اجازت ہوں

62

Download Image

بھرے ہوئے جام پر سراحی کا سر جھکا تو برا لگے گا
جسے تیری آرزو نہیں تو اسے ملا تو برا لگے گا

یہ آخری کمپکمپاتا جملہ کہ ا
سے تعلق کو ختم کر دو
بڑے جتن سے کہا ہے ا
سے نے نہیں کیا تو برا لگے گا

61

Download Image

ہے وہ ہے وہ سو رہا ہوں تری خواب دیکھنے کے لیے
یہ آرزو ہے کہ آنکھوں ہے وہ ہے وہ رات رہ جائے

61

Download Image

خو
گرا کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

473

Download Image

'رز' کا اصل مطلب ہے راز یا کچھ پوشیدہ۔ شاعری میں، یہ ایک پراسرار خصوصیت اختیار کر لیتا ہے، جو زندگی کے نامعلوم اور پراسرار پہلوؤں کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ غیر مرئی کے بارے میں حیرت اور تجسس کے احساس کو ابھارتا ہے۔

شاعر 'رز' کا استعمال اسرار اور نامعلوم کے موضوعات میں گہرائی سے جانے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ دل، کائنات اور الہی کے چھپے ہوئے سچائیوں کے بارے میں اشعار میں ظاہر ہوتا ہے۔ یہ لفظ وضاحت کے برعکس، پراسرار کے دلکشی کو اجاگر کرتا ہے۔

شاعری میں، 'رز' معلوم اور نامعلوم کے درمیان ابدی رقص کی علامت ہے۔ یہ قارئین کو زندگی کے اسرار کی خوبصورتی کو اپنانے کی دعوت دیتا ہے۔