Meaning of

رندوں

rindon • रिंदों

رند; عیاش

revelers; hedonists

मौज-मस्ती करने वाले; भोगी

Persian

لگ ہندو ہوں ہے وہ ہے وہ نہیں مسلمان ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ
درندوں کی دنیا ہے وہ ہے وہ انسان ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ

ادا کر مجھے تو عبادت کے چنو
مری جاں تری دل کا ارمان ہوں ہے وہ ہے وہ

24

Download Image

سب پرندوں سے پیار لوں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ
پیڑ کا روپ دھار لوں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ

تو نشانے پہ آ بھی جائے ا
گر
کون سا تیر مار لوں گا ہے وہ ہے وہ

192

Download Image

پیار کا پہلا خط لکھنے ہے وہ ہے وہ سمے تو لگتا ہے
نئے پرندوں کو اڑنے ہے وہ ہے وہ سمے تو لگتا ہے

84

Download Image

اڑنے دو پرندوں کو ابھی شوخ ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ
پھروں لوٹ کے بچپن کے زمانے نہیں آتے

52

Download Image

دانشمندوں رستہ بتلا سکتے ہوں
دیوا
لگ ہوں ویرانے تک جانا ہے

جنت والے تھوڑا پہلے اتریںگے
رندوں کو تو مے خانے تک جانا ہے

48

Download Image

یوں دیکھیے تو آندھی ہے وہ ہے وہ ب
سے اک شجر گیا تو
لیکن لگ جانے کتنے پرندوں کا گھر گیا تو

چنو غلط پتے پہ چلا آئی کوئی بے وجہ
سکھ ایسے مری در پہ رکا اور گزر گیا تو

46

Download Image

ہمارا عشق عبادت کا ا
گلہ درجہ ہے
خدا نے چھوڑ دیا تو تمہارا نام لیا

غموں سے بیر تھا سو ہم نے خود کشی کر لی
شجر نے گر کے پرندوں سے انتقام لیا

40

Download Image

یار اک بار پرندوں کو حکومت دے دو
یہ کسی شہر کو مقتل نہیں ہونے دیں گے

یہ جو چہرے ہیں ی
ہاں چاند سے چہرے تابش
یہ میرا عشق مکمل نہیں ہونے دیں گے

37

Download Image

جاناں پرندوں سے زیادہ تو نہیں ہوں آزاد
شام ہونے کو ہے اب گھر کی طرف لوٹ چلو

29

Download Image

جانے کیا سوچ کے پھروں ان کو رہائی دے دی
ہم نے اب کے بھی پرندوں کو تہ دام کیا

27

Download Image

لگ ہندو ہوں ہے وہ ہے وہ نہیں مسلمان ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ
درندوں کی دنیا ہے وہ ہے وہ انسان ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ

ادا کر مجھے تو عبادت کے چنو
مری جاں تری دل کا ارمان ہوں ہے وہ ہے وہ

24

Download Image

سب پرندوں سے پیار لوں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ
پیڑ کا روپ دھار لوں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ

تو نشانے پہ آ بھی جائے ا
گر
کون سا تیر مار لوں گا ہے وہ ہے وہ

192

Download Image

رندوں ان لوگوں کو حوالہ دیتا ہے جو زندگی کی لذتوں میں مگن ہوتے ہیں، اکثر بے فکر یا باغی روح کے ساتھ۔ شاعری میں، یہ لمحے میں جینے کے جوہر کو پکڑتا ہے، خوشی کو گلے لگاتا ہے اور سماجی اصولوں کو چیلنج کرتا ہے۔

شاعر اکثر 'رندوں' کا استعمال ان کرداروں کو پیش کرنے کے لیے کرتے ہیں جو روایت کی حدود سے باہر جیتے ہیں۔ یہ خوشی کی تلاش، ضبط کے انکار، یا زندگی کے لمحاتی لمحات کے جشن کی علامت ہو سکتا ہے۔

رندوں آزادی اور خوشی کی روح کو سمیٹے ہوئے ہے، بغیر پابندی کے جینے کی خوبصورتی کا ثبوت ہے۔