Meaning of

ساق

saaq • साक़

ٹانگ; ران; سہارا

leg; thigh; support

पैर; जांघ; सहारा

Arabic

مجھے یہ فکر سب کی پیا
سے اپنی پیا
سے ہے ساقی
تجھے یہ ضد کہ خالی ہے میرا پیما
لگ برسوں سے

19

Download Image

نشہ پلا کے گرانا تو سب کو آتا ہے
مزہ تو تب ہے کہ گرتوں کو تھام لے ساقی

42

Download Image

تعریف سن رہا ہوں بے حد تری ہاتھ کی
ساقی مری لیے بھی ذرا سی نکال دے

39

Download Image

نشہ بے باکی مستان نم دامان عصیاں
عاریت ہے تراوت کھیچی کی

32

Download Image

حقیقت گل فروش ک
ہاں اب گلاب ک
سے سے لوں
نہیں رہا میرا ساقی شراب ک
سے سے لوں

29

Download Image

ا
پیش بیٹھے تھے پھروں بھی آنکھ ساقی کی پڑی ہم پر
ا
گر ہے تشنہ لبی کامل تو پیمانے بھی آئیں گے

27

Download Image

بوسے اپنے ساقی مہ وش کے
لا مجھے دے دے تری ک
سے کام کے

25

Download Image

آتا ہے جی ہے وہ ہے وہ لب پیما
لگ پہ بار بار
لب چوم لوں ترا رکھ دل پسند چھوڑ کر

25

Download Image

فریب ساقی محفل لگ پوچھیے مجروح
شراب ایک ہے بدلے ہوئے ہیں پیمانے

22

Download Image

بڑھائی مے جو محبت سے آج ساقی نے
یہ کان
پہ ہاتھ کہ میک اپ بھی ہم اٹھا لگ سکے

21

Download Image

مجھے یہ فکر سب کی پیا
سے اپنی پیا
سے ہے ساقی
تجھے یہ ضد کہ خالی ہے میرا پیما
لگ برسوں سے

19

Download Image

نشہ پلا کے گرانا تو سب کو آتا ہے
مزہ تو تب ہے کہ گرتوں کو تھام لے ساقی

42

Download Image

ساق کا لفظ طاقت اور سہارا کی تصویر پیش کرتا ہے، اکثر اس بنیاد کی علامت ہوتا ہے جس پر کچھ کھڑا ہوتا ہے۔ شاعری میں، یہ محبوب کی استقامت یا خوبصورتی کی پائیداری کی نمائندگی کر سکتا ہے۔

شاعر 'ساق' کا استعمال غیر متزلزل حمایت کے خیال کو بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ محبوب کی موجودگی کا استعارہ ہو سکتا ہے۔ یہ نازکی کے برعکس، استقامت پر زور دیتا ہے۔

شاعرانہ دنیا میں، 'ساق' پائیدار طاقت اور غیر متزلزل حمایت کی گواہی دیتا ہے۔