Meaning of

صدا غم

sada-e-gham • सदा-ए-ग़म

غم کی صدا; غم کی پکار

voice of sorrow; cry of grief

दुःख की आवाज़; शोक की पुकार

Arabic

حفاظت بھی شرارت بھی ہدایت بھی محبت بھی
تمہارے ہی لیے تھا سب تمہیں پہ وار دیتا ہوں

فقط مری خیال و خواب سے جاناں صدا غمگین رہتی ہوں
چلو جاناں سے ا
پیش ہوکر تمہیں ہے وہ ہے وہ تار دیتا ہوں

3

Download Image

غضب یہ ہوا ہے زندگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ
لگ ہوتا کوئی اپنا واقف ہے وہ ہے وہ ہے وہ

زبان ہوتے ہوتے زخموں کو مری مل گئی ہے
ا
نہیں شامل کیا جب شاعری ہے وہ ہے وہ ہے وہ

غضب کا دل بنایا ہے خدا نے
چھلک پڑتے ہیں آنسو بھی خوشی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

خوشی کا ایک لمحہ قیمتی ہے
ہزاروں غم ہیں لیکن زندگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

برا ہوں ہے وہ ہے وہ مجھے اچھا کہا ہے
شرابی نے یقیناً بےخو
گرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ

مجھے ہنستا ہوا دیکھا تو کہتے حقیقت
کوئی تو بات ہے ا
سے آدمی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

مری رب مجھ کو یہ توفیق دے دے
ر
ہوں ہنستا صدا غم اور خوشی ہے وہ ہے وہ

7

Download Image

حفاظت بھی شرارت بھی ہدایت بھی محبت بھی
تمہارے ہی لیے تھا سب تمہیں پہ وار دیتا ہوں

فقط مری خیال و خواب سے جاناں صدا غمگین رہتی ہوں
چلو جاناں سے ا
پیش ہوکر تمہیں ہے وہ ہے وہ تار دیتا ہوں

3

Download Image

غضب یہ ہوا ہے زندگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ
لگ ہوتا کوئی اپنا واقف ہے وہ ہے وہ ہے وہ

زبان ہوتے ہوتے زخموں کو مری مل گئی ہے
ا
نہیں شامل کیا جب شاعری ہے وہ ہے وہ ہے وہ

غضب کا دل بنایا ہے خدا نے
چھلک پڑتے ہیں آنسو بھی خوشی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

خوشی کا ایک لمحہ قیمتی ہے
ہزاروں غم ہیں لیکن زندگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

برا ہوں ہے وہ ہے وہ مجھے اچھا کہا ہے
شرابی نے یقیناً بےخو
گرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ

مجھے ہنستا ہوا دیکھا تو کہتے حقیقت
کوئی تو بات ہے ا
سے آدمی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

مری رب مجھ کو یہ توفیق دے دے
ر
ہوں ہنستا صدا غم اور خوشی ہے وہ ہے وہ

7

Download Image

اپنی اصل میں، 'صدا غم' اس گہرے غم کی گونج کو بیان کرتا ہے جو روح کے اندر گونجتی ہے۔ یہ غم کے اس غیر مرئی بوجھ کو پکڑتا ہے، ایک بے آواز پکار جو دل کی خاموشی میں گونجتی ہے۔ شاعری نے اس لفظ کو اپنایا ہے تاکہ انسانی تکلیف کی گہرائیوں کو تلاش کیا جا سکے، ذاتی درد کو عالمی جذبات میں تبدیل کرتے ہوئے۔

شاعر اکثر 'صدا غم' کا استعمال عاشق کے خاموش دکھ کو بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ ان کہے درد کا استعارہ ہے، مایوسی میں ڈوبے دل کی خاموش فریاد۔ یہ لفظ خوشی کے اظہار کے برعکس ہے، انسانی تجربے کی دوہری نوعیت کو اجاگر کرتا ہے۔

شاعری کی دنیا میں، 'صدا غم' ان خاموش جنگوں کی یاد دہانی ہے جو ہم سب برداشت کرتے ہیں۔ یہ دل کے گہرے غموں کی گونج ہے۔