Meaning of

سخا

sakhaa • सख़ा

سخاوت; فیاضی

generosity; munificence

उदारता; दानशीलता

Arabic

کبھی کپڑے سخانے چھت پہ آؤ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ کب سے الگنی بنکر کھڑا ہوں

1

Download Image

پیا
سے ج
ہاں کی ایک شایاں تیری سخاوت شبنم ہے
پی کے اٹھا جو بزم سے تیری اور بھی تش
لگ کام اٹھا

19

Download Image

خواہش سخانے رکھی تھی کوٹھے پہ دوپہر
اب شام ہوں چلی میاں دیکھو کدھر گئی

19

Download Image

آنکھوں سے ہے سمجھ لگ آنا
پھروں ہونٹوں سے کیا سمجھانا

سکھ دکھ تو ہیں سخا تمہارے
سو ان سے اب کیا گھبرانا

ہارا جیتا کشنک ہے پیاری
گرنا اٹھنا کیا شرمانا

5

Download Image

جاناں بہانے کر کے بھی مری گھر نہیں آتی
کپڑے بھی سخانے جاناں بام پر نہیں آتی

4

Download Image

نہیں آئی ضرورت ہے وہ ہے وہ سخا مری بلانے پر
سبھی روئے وہیں لیکن بدن میرا جلانے پر

3

Download Image

ا
سے
لیے شام کو ہم روز اڑاتے تھے پتنگ
چھت پہ آتی تھی حقیقت ملبو
سے سخانے کے لیے

1

Download Image

کبھی کپڑے سخانے چھت پہ آؤ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ کب سے الگنی بنکر کھڑا ہوں

1

Download Image

پیا
سے ج
ہاں کی ایک شایاں تیری سخاوت شبنم ہے
پی کے اٹھا جو بزم سے تیری اور بھی تش
لگ کام اٹھا

19

Download Image

'سخا' لفظ سخاوت اور کھلے دل سے دینے کی روح کو بیان کرتا ہے۔ شاعری میں، اس کا استعمال اکثر بغیر توقع کے دینے کی عظیم صفت کو بیان کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسے دل کی تصویر پیش کرتا ہے جو مہربانی اور خیر خواہی سے لبریز ہے۔

شاعر 'سخا' کا استعمال بے غرضی اور ایثار کے موضوعات کو اجاگر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ اکثر لالچ کے برعکس ہوتا ہے، ایک سخی روح کی خوبصورتی کو اجاگر کرتا ہے۔

شاعری میں، 'سخا' مہربانی کی پائیدار طاقت اور دینے کی انسانی صلاحیت کا ثبوت ہے۔