Meaning of

سناء

sannaa • सन्नाअ

چمک; درخشانی

splendor; brilliance

चमक; दीप्ति

Arabic

ذہن ہے وہ ہے وہ شور شرابے 9
دل ہے وہ ہے وہ سناٹے کرتے ہیں

5

Download Image

بات کروں روٹھے یاروں سے سناٹوں سے ڈر جاتے ہیں
پیار اکیلا جی لیتا ہے دوست اکیلے مر جاتے ہیں

141

Download Image

ڈر ہم کو بھی لگتا ہے رستے کے سناٹے سے
لیکن ایک سفر پر اے دل اب جانا تو ہوگا

43

Download Image

ہے وہ ہے وہ بے حد خوش تھا کڑی دھوپ کے سناٹے ہے وہ ہے وہ ہے وہ
کیوں تیری یاد کا بادل مری سر پر آیا

38

Download Image

گونجتا ہے بدن ہے وہ ہے وہ سناٹا
کوئی خالی مکان ہوں چنو

36

Download Image

شب کے سناٹے ہے وہ ہے وہ یہ ک
سے کا لہو گاتا ہے
سرحد درد سے یہ ک
سے کی صدا آتی ہے

16

Download Image

ہے وہ ہے وہ خود ہے وہ ہے وہ گونجتا ہوں بن کے تیرا سناٹا
مجھے لگ دیکھ مری طرح بے زبان بن کر

11

Download Image

گلیوں کی اداسی پوچھتی ہے گھر کا سناٹا کہتا ہے
ا
سے شہر کا ہر رہنے والا کیوں دوسرے شہر ہے وہ ہے وہ رہتا ہے

9

Download Image

اپنے ساتھ لیے جاتا ہے آنکھوں کو اور کانوں کو
کچھ لوگوں کے جانے کا سناٹا ایسا ہوتا ہے

8

Download Image

تا عمر گزاری ہم نے سب کو ہنسانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ
پھروں موت سے اپنی سناٹا کیا ہے یاروں

7

Download Image

ذہن ہے وہ ہے وہ شور شرابے 9
دل ہے وہ ہے وہ سناٹے کرتے ہیں

5

Download Image

بات کروں روٹھے یاروں سے سناٹوں سے ڈر جاتے ہیں
پیار اکیلا جی لیتا ہے دوست اکیلے مر جاتے ہیں

141

Download Image

سناء لفظ ایک الہی یا آسمانی روشنی کی چمک کو ظاہر کرتا ہے۔ شاعری میں، یہ صرف جسمانی چمک تک محدود نہیں رہتا، بلکہ روح کو روشن کرنے والی ایک اندرونی روشنی کا اشارہ دیتا ہے۔

شعراء 'سناء' کا استعمال اکثر محبوب کی ماورائی خوبصورتی یا فطرت میں الہی موجودگی کو بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ تاریکی کے برعکس، امید اور روشنی کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔

اپنی شاعرانہ جوہر میں، 'سناء' اس روشن خوبصورتی کو پکڑتا ہے جو عام سے ماورا ہے، اندرونی روشنی پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔