Meaning of

سرگوش

sargosh • सरगोश

سرگوشی; بڑبڑاہٹ

whisper; murmur

फुसफुसाहट; बड़बड़ाहट

Persian

کبھی لگتے گلے سے وہ کبھی سرگوشیاں کرتے
کبھی نظریں جھکاتے اور شرماتے تو اچھا تھا

0

Download Image

برا منایا تھا ہر آہٹ ہر سرگوشی کا
سوچو کتنا دھیان رکھا اس کا نے خاموشی کا

تم اس کا نقصان بتاتی اچھی لگتی ہو
ورنا ہم کو شوق نہیں ہے سگریٹ نوشی کا

32

Download Image

تیری دی سے ملتی ہیں خاموشیاں
دل ہے وہ ہے وہ کیوں رکھتا ہے اتنی سرگوشیاں

4

Download Image

کتنی اچھی لگتی ہے خاموشی کی سرگوشی
چنو تتلیاں کرتی رہتی ہیں پھولوں سے نوشی

0

Download Image

کبھی لگتے گلے سے وہ کبھی سرگوشیاں کرتے
کبھی نظریں جھکاتے اور شرماتے تو اچھا تھا

0

Download Image

ہوا کرتی ہے جیجو کے مجلس ہے وہ ہے وہ یہ سرگوشی بھی اب 9
عجب ہی قہر ڈھا رکھا ہے چھڑکتا پر ان حسن والوں نے

0

Download Image

کبھی لگتے گلے سے وہ کبھی سرگوشیاں کرتے
کبھی نظریں جھکاتے اور شرماتے تو اچھا تھا

0

Download Image

برا منایا تھا ہر آہٹ ہر سرگوشی کا
سوچو کتنا دھیان رکھا اس کا نے خاموشی کا

تم اس کا نقصان بتاتی اچھی لگتی ہو
ورنا ہم کو شوق نہیں ہے سگریٹ نوشی کا

32

Download Image

سرگوش کا لفظ سرگوشی کی قربت اور راز داری کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ ایک خاموش رابطے کا اشارہ دیتا ہے، جو اکثر راز یا نرمی سے بھرا ہوتا ہے۔ شاعری میں، یہ ان کہی جذبات یا عاشقوں کے درمیان لطیف تبادلوں کی علامت ہو سکتا ہے، جہاں الفاظ کی نسبت ان کے جذبات زیادہ اہم ہوتے ہیں۔

شاعر اکثر 'سرگوش' کا استعمال خفیہ بات چیت کی نازک نوعیت کو ظاہر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ اس کا استعمال عاشقوں کے درمیان شیئر کیے گئے خاموش لمحات یا خفیہ ملاقات کے خاموش لہجوں کو پیش کرنے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ یہ لفظ شاعرانہ اظہار میں راز اور قربت کا عنصر شامل کرتا ہے۔

شاعری کی دنیا میں، 'سرگوش' سرگوشی کیے گئے رازوں اور ان کے پیدا کردہ قربت کا جوہر پکڑتا ہے۔