Meaning of

سیم

seem • सीम

چاندی; پاکیزگی کی علامت; نفاست

silver; metaphor for purity; elegance

चाँदी; पवित्रता का प्रतीक; शालीनता

Persian

بڑا ہوکر جو چھوٹے لوگوں کی تعظیم کرتا ہے
زمانہ ایسے ہی انسان کو تسلیم کرتا ہے

چلو چھوڑو سیاست کے پرانی طعنہ بانہ کو
یہی حقیقت فلسفہ ہے جو ہمیں تقسیم کرتا ہے

5

Download Image

گھر کی تقسیم ہے وہ ہے وہ انگنائی گنوا بیٹھے ہیں
پھول گلشن سے شنا سائی گنوا بیٹھے ہیں

بات آنکھوں سے سمجھ لینے کا دعویٰ مت کر
ہم اسی شوق ہے وہ ہے وہ بینائی گنوا بیٹھے ہیں

59

Download Image

ہے وہ ہے وہ لوٹنے کے وسیم سے جا رہا ہوں م
گر
سفر سفر ہے میرا انتظار مت کرنا

50

Download Image

تڑپنا ہجر تک محدود نہیں ہے
اسے دلہن بھی مشعل جاں دیکھنا ہے

49

Download Image

وسیم باندھتا ہوں سوچتا ہوں توڑ دیتا ہوں
کہی ایسا لگ ہوں جائے کہی ایسا لگ ہوں جائے

44

Download Image

جن کے مضبوط وسیم بنے پہچان ان کی
منزلیں آپ ہی ہوں جاتی ہیں آسان ان کی

43

Download Image

ا
سے دور منصفی ہے وہ ہے وہ ضروری نہیں مسئلہ
ج
سے بے وجہ کی غلطیاں ہوں اسی کو سزا ملے

33

Download Image

روشنی ایسی غضب تھی رنگ بھومی کی نسیم گلزار ناز
ہوں گئے کردار مدغم کرشن بھی رادھا لگا

17

Download Image

یہ مت سوچو یار سفر ب
سے منزل تک ہی محدود ہے
ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا
سے کے آگے بھی را
ہوں کا جانا دیکھا ہے

6

Download Image

روز وہی بیکار وسیم ب
سے
ا
سے سے وعدے ا
سے سے وعدے ب
سے

5

Download Image

بڑا ہوکر جو چھوٹے لوگوں کی تعظیم کرتا ہے
زمانہ ایسے ہی انسان کو تسلیم کرتا ہے

چلو چھوڑو سیاست کے پرانی طعنہ بانہ کو
یہی حقیقت فلسفہ ہے جو ہمیں تقسیم کرتا ہے

5

Download Image

گھر کی تقسیم ہے وہ ہے وہ انگنائی گنوا بیٹھے ہیں
پھول گلشن سے شنا سائی گنوا بیٹھے ہیں

بات آنکھوں سے سمجھ لینے کا دعویٰ مت کر
ہم اسی شوق ہے وہ ہے وہ بینائی گنوا بیٹھے ہیں

59

Download Image

سیم کا اصل مطلب چاندی ہے، جو اپنی چمک اور قدر کے لئے جانی جاتی ہے۔ شاعری میں، یہ اپنے مادی شکل سے آگے بڑھ کر پاکیزگی اور نفاست کی علامت بن جاتی ہے، اکثر چاندنی یا محبوب کے زیورات کی نرم چمک کا تصور پیش کرتی ہے۔

شاعر اکثر 'سیم' کا استعمال چاند سے موازنہ کرنے یا محبوب کی غیر معمولی خوبصورتی کو بیان کرنے کے لئے کرتے ہیں۔ یہ کسی قیمتی لیکن نازک چیز کے خیال کو ظاہر کرنے کے لئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، جو خوبصورتی کی عارضی نوعیت کو پکڑتا ہے۔

شاعرانہ دنیا میں، 'سیم' خوبصورتی کی عارضی نزاکت کا جوہر پکڑتا ہے۔ یہ ہمیں قدر اور نرمی کے درمیان توازن کی یاد دلاتا ہے۔