Meaning of

سیپ

seep • सीप

صدف; موتی کی سیپ

shell; pearl oyster

शंख; मोती की सीप

Sanskrit

زہر ہے کچھ بھرا اتنا نگا
ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ
دیکھتی ہے مجھے جب بھی رلاتی ہے

جسم کو مری حقیقت کچھ یوں ستاتی ہے
ایک سیپی جو میرا مان
سے کھاتی ہے

0

Download Image

چل دیے گھر سے تو گھر نہیں دیکھا کرتے
جانے والے کبھی مڑ کر نہیں دیکھا کرتے

سیپیاں کون کنارے سے اٹھا کر بھاگا
ایسی باتیں سمندر نہیں دیکھا کرتے

25

Download Image

ہے وہ ہے وہ اطراف ہی رہا دشت شناسائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ
کوئی اترا ہی نہیں روح کی گہرائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

کیا ملایا ہے بتا جام پذیرائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ
خوب نشہ ہے تیری حوصلہ افزائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

تیری یادوں کی سوئی پریم کا دھاگا میرا
کام آئی ہیں بے حد زخموں کی تڑ
پائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

ڈ
سے رہی ہے یہ سیہ رات کی سیپی مجھ کو
بھر رہی زہر خموشی رگ تنہائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

سرمہ مکر و فریب آنکھوں ہے وہ ہے وہ جب سے ہے لگا
تب سے ہے خوب اضافہ حد بینائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

فکر و فن رنگ تغزل لگ غزل کی خوشبو
ب
سے لگا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ قافیہ پیمائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ

سیکھ پانی سے ہنر کام انی
سے آئےگا
دوڑ کر خود ہی چلا آتا ہے گہرائی ہے وہ ہے وہ

13

Download Image

تو تو پھروں ٹھیک ہے سیپی نے ڈسا ہے تجھ کو
مجھ کو افسو
سے ہے تتلی سے ڈسے جانے کا

4

Download Image

عشق ہے وہ ہے وہ حد سے بڑھ سکتی ہے,बेहतर ہے
سیپ ہے وہ ہے وہ اندھیرا گڑھ سکتی ہے,बेहतर ہے

خاموشی بھی سن سکتی ہے حقیقت لڑکی
مطلب آنکھیں پڑھ سکتی ہے,बेहतर ہے

3

Download Image

ہے وہ ہے وہ تو کم ظرف ایک صحرا ہوں
ڈھونڈتی ہے حقیقت سیپیاں مجھ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ

1

Download Image

یہ سیپی سی تیری زلفیں گھٹا بنکر جو چھائیںگی
تڑپ کر مر بھی جاؤں تو نہیں الزام لکھوں گا

1

Download Image

یہ قاتل نگاہیں یہ سرمہ غضب کا
ہے سیپی سے کیشوں ہے وہ ہے وہ گجرا غضب کا

1

Download Image

جسم کو مری حقیقت کچھ یوں ستاتی ہے
ایک سیپی جو میرا مان
سے کھاتی ہے

1

Download Image

لگ جانے بھی
سے ہے وہ ہے وہ حقیقت ک
سے کے ڈ
سے لے
حقیقت سیپی اچھادھاری ہوں گئی ہے

0

Download Image

زہر ہے کچھ بھرا اتنا نگا
ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ
دیکھتی ہے مجھے جب بھی رلاتی ہے

جسم کو مری حقیقت کچھ یوں ستاتی ہے
ایک سیپی جو میرا مان
سے کھاتی ہے

0

Download Image

چل دیے گھر سے تو گھر نہیں دیکھا کرتے
جانے والے کبھی مڑ کر نہیں دیکھا کرتے

سیپیاں کون کنارے سے اٹھا کر بھاگا
ایسی باتیں سمندر نہیں دیکھا کرتے

25

Download Image

'سیپ' لفظ عام کے اندر چھپے خزانوں کی یاد دلاتا ہے۔ شاعری میں، یہ ایک کھردرے بیرونی سطح کے نیچے چھپی ہوئی خوبصورتی اور قدر کی صلاحیت کی علامت ہے۔

شاعر اکثر 'سیپ' کا استعمال چھپی ہوئی گہرائیوں اور سطح کے نیچے چھپی خوبصورتی کے خیال کو جگانے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ اپنی اندرونی صلاحیت کو ظاہر کرنے کے سفر کا بھی مشورہ دے سکتا ہے۔

شاعری میں، 'سیپ' ہمیں سطح کے نیچے دریافت کی منتظر خوبصورتی کی یاد دلاتا ہے۔