Meaning of

شانہ

shaana • शाना

کندھا; کنگھی; بالوں کی مانگ

shoulder; comb; parting of hair

कंधा; कंघी; बालों की मांग

Persian

بولتا کچھ بھی رہے ظالم زما
لگ چھوڑ جانا
جب میسر ہوں تجھے بھی ایک شا
لگ چھوڑ جانا

ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا
گر دوں واسطہ کوئی تجھے تو تو ہمارے
حال پر بلکل تر
سے مت یار خا
لگ چھوڑ جانا

2

Download Image

جہان بھر ہے وہ ہے وہ لگ ہوں میسر جو کوئی شا
لگ ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ بتانا
نہیں ملے گر کوئی ہری تو لوٹ آنا ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ بتانا

کچھ ایسی باتیں جو انکہی ہوں م
گر حقیقت اندر سے کھا رہی ہوں
لگے کسی کو بتانا ہے پر نہیں بتانا ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ بتانا

63

Download Image

آج ہے ان کو آنا مزہ آئےگا
پھروں جلےگا زما
لگ مزہ آئےگا

تیر ان کی نظر کے چلیں گے کئی
دل بنےگا نشا
لگ مزہ آئےگا

44

Download Image

ذرا دی سے کہ دو جی نشا
لگ چوک لگ جائے
مزہ جب ہے تمہاری ہر ادا قاتل ہی کہلائے

32

Download Image

آپ کے ت
غافل کا سلسلہ پرانا ہے
ا
سے طرف نگاہیں ہیں ا
سے طرف نشا
لگ ہے

32

Download Image

نشانے پہ مری خوشگوار کھڑی ہے
ک
ہاں ہے لگانا نشا
لگ بتاؤ

7

Download Image

یہی زندگی مصیبت یہی زندگی مسرت
یہی زندگی حقیقت یہی زندگی فسا
لگ

کبھی ہے وہ ہے وہ ہوں تجھ سے نالاں کبھی مجھ سے تو پریشاں
کبھی ہے وہ ہے وہ ترا ہدف ہوں کبھی تو میرا نشا
لگ

5

Download Image

داغ دامن پر تمہارے جب لگے
یہ لگ جاناں بھی دیکھ پائے کب لگے

ٹھیک ا
سے نے تب نشا
لگ طے کیا
تیر سینے ہے وہ ہے وہ تمہارے جب لگے

3

Download Image

یار ا
سے نے اب نشا
لگ طے کیا
جاں م
گر پہلے دیوا
لگ طے کیا

حقیقت سفر سے لوٹ کر جو آ گیا تو
یار پہلے ہی ہری طے کیا

3

Download Image

پتا تھا اس کا کو صحیح جگہ نشا
لگ لگا ہے
آنکھیں حقیقت موند لی تھی تیر چلانے کے بعد

3

Download Image

بولتا کچھ بھی رہے ظالم زما
لگ چھوڑ جانا
جب میسر ہوں تجھے بھی ایک شا
لگ چھوڑ جانا

ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا
گر دوں واسطہ کوئی تجھے تو تو ہمارے
حال پر بلکل تر
سے مت یار خا
لگ چھوڑ جانا

2

Download Image

جہان بھر ہے وہ ہے وہ لگ ہوں میسر جو کوئی شا
لگ ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ بتانا
نہیں ملے گر کوئی ہری تو لوٹ آنا ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ بتانا

کچھ ایسی باتیں جو انکہی ہوں م
گر حقیقت اندر سے کھا رہی ہوں
لگے کسی کو بتانا ہے پر نہیں بتانا ہ
ہے وہ ہے وہ ہے وہ بتانا

63

Download Image

اصل میں 'شانہ' کا مطلب کندھا ہے، جو سہارا اور بوجھ کی جگہ ہے۔ شاعری میں، یہ ان جذبات کے بوجھ کی علامت بن جاتا ہے جو کوئی اٹھاتا ہے یا جس سہارے کی تلاش کرتا ہے۔

شاعر اکثر 'شانہ' کا استعمال سہارا اور بوجھ کی تصاویر کو ابھارنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ اس خاموش قوت کی نمائندگی کر سکتا ہے جو کوئی فراہم کرتا ہے یا اس چھپے ہوئے بوجھ کا جو کوئی اٹھاتا ہے۔

'شانہ' لفظ میں طاقت اور کمزوری کی دوہری کیفیت ہوتی ہے، جو اسے شاعرانہ جستجو کے لیے ایک گہرا انتخاب بناتا ہے۔