Meaning of

شب بھر

shab-bhar • शब-भर

پوری رات; رات بھر

all night; throughout the night

पूरी रात; रात भर

Persian

کروٹ بدل بدل کر سوچوں تمہیں ہے وہ ہے وہ شب بھر
جاناں چین سے کسی کے خوابوں کو بُن رہے ہوں

3

Download Image

کوئی چہرہ کسی کو عمر بھر اچھا نہیں لگتا
حسین ہے چاند بھی شب بھر م
گر اچھا نہیں لگتا

49

Download Image

تنہائیاں تمہارا پتا پوچھتی رہیں
شب بھر تمہاری یاد نے سونے نہیں دیا

46

Download Image

کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا
کچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرہ ترا

45

Download Image

شب بھر اک آواز بنائی صبح ہوئی تو چیخ پڑے
روز کا اک معمول ہے اب تو خواب زدہ ہم لوگوں کا

23

Download Image

صبح کی سیر کی کرتا ہوں تمنا شب بھر
دن نکلتا ہے تو بستر ہے وہ ہے وہ پڑا رہتا ہوں

18

Download Image

ایک طریقہ بربا
گرا کا ہم نے یوں ایجاد کیا
شب بھر تنہا تنہا روئے بیتابی کو شاد کیا

12

Download Image

آنکھیں تب سے روشن ہیں بولو ہے وہ ہے وہ کیا کر سکتا ہوں
حقیقت شب بھر دیکھا تھا کل جاناں کو ہے وہ ہے وہ کیا کر سکتا ہوں

جاناں کہتی ہوں جاناں کو سندر کیول ہے وہ ہے وہ ہی کہتا ہوں
اب ساری دنیا اندھی ہے تو ہے وہ ہے وہ کیا کر سکتا ہوں

6

Download Image

نیند آتی نہیں مجھے شب بھر
دیکھ لیتے مجھے حقیقت گر پل بھر

5

Download Image

اسی پر بیٹھ کر شب بھر کہانی ماں سناتی تھی
تبھی خوشبو سی آتی ہے مجھے ا
سے کھٹملوں سے

4

Download Image

کروٹ بدل بدل کر سوچوں تمہیں ہے وہ ہے وہ شب بھر
جاناں چین سے کسی کے خوابوں کو بُن رہے ہوں

3

Download Image

کوئی چہرہ کسی کو عمر بھر اچھا نہیں لگتا
حسین ہے چاند بھی شب بھر م
گر اچھا نہیں لگتا

49

Download Image

شب بھر کا لفظ رات کے خاموش، غور و فکر کے لمحات کو ظاہر کرتا ہے۔ شاعری میں، یہ وقت کے اس بہاؤ کی علامت ہے جو خواہش یا خود شناسی سے بھرا ہوتا ہے۔ رات خوابوں اور ان کہے جذبات کے لیے ایک کینوس بن جاتی ہے۔

شاعر اکثر 'شب بھر' کا استعمال بے انتہا انتظار یا رات کے دوران محسوس کی گئی جذبات کی گہرائی کو بیان کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہ رات کی تنہائی اور خاموشی کو بھی ظاہر کر سکتا ہے، جو دن کے ہنگامے کے برعکس ہے۔

رات کی آغوش میں، 'شب بھر' روح کی خاموش سوچوں کا ایک وسیلہ بن جاتا ہے۔